1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ پاکستان کو پستی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے، جو بائیڈن

امریکی نائب صدرجوزف بائیڈن نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نیٹ ورک کی کوشش ہے کہ وہ جوہری طاقت کے حامل ملک پاکستان کو پستی کی طرف دھکیل دے۔ انہوں نے یہ بیان اتوار کو ایک امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا۔

default

امریکی نائب صدرجوزف بائیڈن

امریکی نائب صدرجوزف بائیڈن نے NBC کے ’پریس سے ملئے‘ نامی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا،"ہمارا اہم ہدف اور مقصد یہ ہے کہ ہم القاعدہ کو تباہ کرتے ہوئےاسے شکست سے دوچار کر دیں۔۔۔ ہم یہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا یہ گروہ پاکستانی حکومت کو پستی کی طرف نہ دھکیل سکے۔"

امریکی نائب صدرجو بائیڈن نےافغان جنگ سے متعلق امریکی صدر باراک اوباما کی حکمت عملی کے ایک سالہ جائزہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مکمل کامیابی کے لئے ابھی واشنگٹن حکومت کو مزید وقت درکار ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے اپنی مؤثرکارروائی کے نتیجے میں انتہا پسندوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

Obama Afghanistan USA Pakistan Clinton Weißes Haus

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت اپنے قبائلی علاقہ جات میں انتہا پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرے

جو بائیڈن نے افغان جنگ میں امریکی افواج کی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا،" ہم نے انتہا پسندوں کے کئی اہم منصوبہ سازوں، تربیت کاروں اور منتظمین کو بے بس کردیا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جیت گئے ہیں؟ نہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اس وقت ہم ماضی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں؟ جی ہاں۔" انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں پاکستان کا کردار اہم ہےاور اسے اپنی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تیزی لانا چاہئے۔

جو بائیڈن نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے، جب کچھ دن قبل ہی امریکی صدر باراک اوباما نے افغان جنگ کی ایک سالہ حکمت عملی کا جائزہ بیان کرتے ہوئے پاکستان سے مزید مؤثر کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے جمعرات 16 دسمبر کو کہا تھا کہ اگرچہ افغان جنگ میں پاکستان، امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے تاہم اسے اپنے قبائلی علاقوں میں انتہا پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لئے تیزی دکھانا ہوگی۔

دوسری طرف کئی مبصرین کے خیال میں پاکستانی حکومت شمالی وزیرستان میں موجود حقانی گروپ کے خلاف عسکری کارروائی کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت میں مبینہ طور پر القاعدہ کا حامی یہ عسکری گروہ پاکستان کے اندر بھی اپنے حملے شروع کر سکتا ہے۔ کئی کا خیال یہ بھی ہے کہ پاکستانی حکومت ایسے جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما نہیں ہونا چاہتی، جو افغانستان میں اس کےاثرورسوخ کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM