1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ سے وابستگی: جرمن شہری کا اعتراف جرم

جرمن کے ایک شہری نے القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد گروہ سے تعلق کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس نے عدالت میں اپنی پیشی کے پہلے روز ہی تسلیم کیا کہ القاعدہ سے وابستہ گروپ نے اسے پاکستان میں تربیت دی تھی۔

default

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس مقدمے میں ملوث شامی نژاد جرمن شہری Rami Makenesi کی عمر پچیس برس ہے۔ وہ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پیدا ہوا۔ اسے دوہری شہریت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ رامی نے القاعدہ سے وابستہ گروہ سے تعلق کا اعتراف استغاثہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت کیا۔

اس معاہدے کے مطابق مکمل اعتراف پر اس کے لیے کم تر سزائے قید سنائی جائے گی، جو پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو گی۔

رامی نے جمعرات کو عدالت میں پیشی کے موقع پر اس بات کی وضاحت کی کہ اس نے مارچ 2009ء میں پاکستان میں شدت پسند گروہ سے تربیت حاصل کرنے کے لیے ملک کیوں چھوڑا۔ اس نے کہا، ’میں جرمنی میں مزید ضم نہیں ہو پا رہا تھا۔‘

اسے گزشتہ برس جون میں پاکستان میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ جرمنی لوٹنے والا تھا۔ اسے اگست میں جرمنی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ جرمن سکیورٹی حکام کے مطابق رامی نے رضاکارانہ طور پر خود کو پاکستانی حکام کے حوالے کیا۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے وہاں اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت حاصل کی، لیکن لڑائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔

اس نے کہا، ’میں دیگر ذرائع سے القاعدہ کی مدد کرنا چاہتا تھا، بالخصوص فنڈز اکٹھے کرنے میں مدد فراہم کرتے ہوئے۔‘

Karte Pakistan mit Waziristan

رامی نے پاکستان میں القاعدہ سے وابستہ شدت پسند گروہ سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا

اس مقدمے کے جج تھوماس ساگیبیل نے قبل ازیں کہا تھا کہ ملزم نے تفتیش کاروں کے سوالوں کے تفصیلی جواب دینے پر رضامندی ظاہر کی تو وہ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزائے قید اور اس وقت کو سزا میں شامل کرنے پر غور کرنے پر تیار ہوں گے، جو وہ حراست میں گزار چکا ہے۔

ساگیبیل نے جمعرات کو سماعت کے بعد کہا، ’ملزم نے تصدیق کر دی ہے کہ اس پر جو الزامات لگائے گئے وہ درست ہیں۔‘

جرمنی نے رامی اور افغانستان میں گرفتار کیے گئے ایک اور جرمن شہری کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر گزشتہ برس نومبر میں سکیورٹی کے تناظر میں اقدامات کیے۔ ان کے نتیجے میں دارالحکومت برلن میں وفاقی پارلیمنٹ کی عمارت بیشتر وزیٹرز کے لیے بند کر دی گئی۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM