1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ رہنماؤں کی ہلاکت کا خفیہ منصوبہ، کانگریس کو بھی خبر نہ تھی

ايک اخباری رپورٹ کے مطابق چند سال پہلے امريکی خفيہ سروس CIA نے القاعدہ کے رہنماؤں کو چن چن کر ہلاک کرنے کا خفيہ پروگرام تيار کيا تھا، جس سے کانگريس کو بھی بے خبر رکھا گيا تھا۔

default

امریکی خفیہ سروس CIA کا لوگو

مشہور امريکی روزنامے نيويارک ٹائمز نے ايک مضمون ميں يہ انکشاف کيا ہے کہ امريکہ کے مرکزی خفيہ ادارے CIA يا سينٹرل انٹيلنجينس ايجنسی نے سن 2004 ميں القاعدہ کے چوٹی کے رہنماؤں کا سراغ لگانے اور انہيں قتل کرنے کا ايک خفيہ پروگرام شروع کيا تھا۔ اس منصوبے کے لئے نجی سيکيورٹی فرم بليک واٹرز کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھيں۔ امريکہ کی سابقہ حکومت اور موجودہ حکومت کے افسران نے اس منصوبے کی تصديق کردی ہے۔

بليک واٹر نامی سيکيورٹی ايجنسی کئی بار تنازعات کا شکار رہی ہے۔اس نے عراق ميں بہت جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کيا تھا۔ بليک واٹرز نے منصوبہ بندی، تربيت اور نگرانی کے سلسلے ميں CIA کی مدد کی اور سی آئی اے نے اس پر لاکھوں ڈالرز خرچ کئے۔ ليکن اس پروگرام کی مدد سے کسی بھی شدت پسند کو نہ تو قتل اور نہ ہی گرفتار کيا جاسکا۔

CIA کے موجودہ ڈائریکٹر پينيٹا نے جون ميں ايک ہنگامی اجلاس بلايا اور امريکی کانگريس کو آگاہ کيا کہ سی آئی اے نے سات برس تک اس متنازعہ پروگرام کو خفيہ رکھا۔

ابھی تک يہ واضح نہيں ہے کہ کيا سی آئی اے نے بليک واٹر کے ذريعے القاعدہ کی قيادت کو پکڑنے يا قتل کرنے کا منصوبہ بنايا تھا يا اس نے صرف تربيت اور نگرانی کے سلسلے ميں سيکيورٹی فرم سے مدد لی تھی۔

امريکہ کی سراغ رساں ايجنسيوں نے گذشتہ برسوں کے دوران اپنے بہت سے حساس کاموں کوباہر کے اداروں اور ملکوں ميں منتقل کرديا ہے، جن ميں قيديوں سے پوچھ گچھ بھی شامل ہے۔ سرکاری افسران کا تاہم کہنا ہے کہ ايجنسی کے باہر کے لوگوں کو ايک ايسے پروگرام ميں لانا،جس ميں ہلاکت خيزی کے اتنے زيادہ اختيارات دئيے گئے ہوں، خفيہ کارروائيوں ميں احتساب کے حوالے سے بہت تشويش ناک بات ہے۔

Barack Obama mit CIA Direktor Leon Panetta im CIA Headquarter

CIA کے سربراہ لیون پینیٹا امریکی صدر باراک اوباما کے ہمراہ

CIA کے موجودہ ڈائریکٹر پينيٹا کےعہدہ سنبھالنے سے کچھ عرصہ پہلے ہی سينئر افسروں کے اس اعتراض کے بعد پروگرام ميں بليک واٹر کی شرکت ختم کردی گئی تھی کہ آخر ٹارگٹ کلنگ يا چن چن کر نشانہ بنانے کے اس پروگرام ميں باہر کی کسی ايجنسی کو شريک کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟

بليک واٹرسيکيورٹی ايجنسی کوعراق ميں امريکی سفارت کاروں کی حفاظت پر بھی مامور کيا گيا تھا اور اس دوران کئی مواقع پر غیر ضروری طور پر بہت زيادہ طاقت کا استعمال کیا گیا تھا، جس کے نتيجے ميں بہت سے شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

امريکی کانگريس کی انٹيليجينس کميٹی يہ چھان بين کررہی ہے کہ CIA نے القاعدہ کے چوٹی کے شدت پسندوں کو چن چن کر ہلاک کرنے کے پروگرام کی اطلاع کانگريس کو کيوں نہيں دی۔

موجودہ اور سابق امريکی افسروں کا کہنا ہے کہ بش دور میں نائب صدر ڈک چينی نے سن 2002 ميں CIA کے حکام سے کہا تھا کہ انہيں کانگريس کو اس پروگرام سے اس لئے آگاہ کرنے کی ضرورت نہيں تھی کيونکہ CIA کو القاعدہ کے رہنماؤں کو ہلاک کرنے کی قانونی اجازت پہلے ہی سے حاصل تھی۔

سابق امريکی صدر فورڈ نے سن 1976 ميں اس انکشاف کے بعد کہ CIa نے کيوبا کے فيڈل کاسٹرو سميت دوسرے غير ملکی رہنماؤں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنايا تھا، CIA پر قاتلانہ حملے کرنے سے متعلق خفیہ پروگراموں پر پابندی لگا دی تھی۔ تاہم بش حکومت کا يہ کہنا تھا کہ القاعدہ ايک دہشت گرد تنظيم ہے، جو امريکہ پر حملے کرچکی ہے اور مزيد حملوں کا ارادہ بھی رکھتی ہے، اس لئے اس کے اراکين کو ہلاک کرنا ايسا ہی ہے جيسے کہ جنگ ميں دشمن کو مارنا اور اس لئے ايجنسی پر فورڈ کی لگائی ہوئی پابندی کا اطلاق نہيں ہوتا۔

رپورٹ : شہاب احمد صدیقی

ادارت : گوہر نذیر

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات