1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ تین سے چھ ماہ میں حملہ کرسکتی ہے، امریکی انٹیلی جنس حکام

امریکہ کے سینیئر انٹیلی جنس حکام نے امریکی کانگریس کو بتایا ہے کہ القاعدہ اگلے تین سے چھ ماہ کے دوران امریکہ پر مزید حملوں کی کوشش کرسکتی ہے۔

default

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کے مطابق دہشت گرد تنظیم القاعدہ امریکہ میں نئے حملوں کے لئے امریکہ ہی میں موجود لوگوں کو معمور کررہی ہے، تاکہ ملک کے اندر سے ہی حملہ کیا جاسکے۔ پنیٹا کے مطابق اس مقصد کے لئے ایسے لوگوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے جن کا پہلے کسی قسم کا مشتبہ ریکارڈ نہ رہا ہو یا جن پر دہشت گردوں سے رابطے کا کم سے کم شک کیا جاسکتا ہو۔ سی آئی کے ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ القاعدہ امریکہ میں موجود شدت پسندوں کو اُکسا رہی ہے کہ وہ اپنے طور پر امریکہ میں پرتشدد کارروائیاں کریں۔

سی آئی اے کی جانب سے امریکہ کو درپیش دہشت گردی کے حوالے سے سالانہ تجزیاتی رپورٹ میں دہشت گردی کے فوری اور نئے رحجانات کے بارے میں تو کوئی نئی بات نہیں کی گئی تاہم کرسمس ڈے پر ڈیٹرائٹ جانے والی فلائٹ کو دوران پرواز تباہ کرنے کی کوشش کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے ایسی مزید کوششوں کے خدشات کا اظہارضرور کیا گیا ہے۔

Osama Bin Laden Flash-Galerie

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الظواہری کی ہلاکت یا گرفتاری تک امریکہ پر حملوں کا خطرہ موجود رہے گا، ڈینس بلیئر

دوسری طرف امریکی ادارے نشینل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر ڈینس بلیئر نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو بتایا کہ جب تک دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الظواہری کو ہلاک یا گرفتار نہیں کرلیا جاتا تب تک امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کے خطرات موجود رہیں گے۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ القاعدہ کی طرف سے اگلے تین سے چھ ماہ کے دوران امریکہ پر حملے کے کتنے امکانات ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اس کے لئے القاعدہ ضرور کوشش کرے گی۔ بلیئر نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو مزید بتایا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ القاعدہ کے ممکنہ حملوں کا مقصد بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع یا امریکی اقتصادیات کو نقصان پہنچانا یا پھر بیک وقت یہ دونوں مقاصد ہوسکتے ہیں۔

اُدھر ایک امریکی عدالت کی طرف سے نئی صدی کے آغاز پر لاس اینجلس ایئرپورٹ کو دھماکے سےاڑانے کی کوشش کرنے والے شخص کو 22 برس قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم استغاثہ کی طرف سے اس سزا کو بہت نرم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل کردی گئی ہے۔

الجزائر کے شہری احمد ریسام کو جسے ملینیم بومبر کا نام دیا گیا تھا، دسمبر 1999ء میں کینیڈا، امریکہ سرحد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کی کار کی ڈگی میں بڑی مقدار میں دھماکہ خیز کیمیکل نائٹروگلیسرین موجود تھا۔ اس نے تفتیشی حکام کو بتایا تھا کہ وہ نئی صدی کے آغاز پر لاس اینجلس ایئرپورٹ کو دھماکے سے اڑانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM