1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

القاعدہ اور طالبان میں نظریاتی تفریق، امریکی ماہرین کی رائے

افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے بارے میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہےکہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اب تاہم امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے اس تصور کو رد کر دیا ہے۔

default

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے نیویارک یونیورسٹی کے ماہرین کی مرتب کردہ ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے نظریات میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ افغانستان میں گوریلا گروپوں کو القاعدہ کے خلاف مائل کرتے ہوئے اس دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹوکے مطابق رواں سال کے دوران افغان دستوں کو ملک میں داخلی سلامتی کی ذمہ داریاں سونپنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ نیٹوکے بقول ذمہ داریوں کی منتقلی کا یہ عمل مرحلہ وار اور صوبہ بہ صوبہ مکمل کیا جائے گا۔ اس طرح 2014ء تک افغان فورسز پورے ملک کا سکیورٹی انتظام اپنے ہاتھوں میں لینے کے قابل ہوجائیں گی۔

Afghanistan Angriff Friedens-Dschirga Kabul Taliban Polizei

طالبان جنگجوؤں کو القاعدہ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، ماہرین

اس کے علاوہ نیٹوکو یہ امید بھی ہے کہ تب تک افغان فوج اور پولیس کی نفری مشترکہ طور پر تین لاکھ تک پہنچ جائے گی، جو اس وقت ملک میں موجود ایک لاکھ چالیس ہزار غیر ملکی فوجیوں کی جگہ سلامتی کے انتظامات سنبھال لے گی۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق یونیورسٹی ماہرین کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر2001ء کے حملوں سے قبل ان دونوں گروپوں کے رہنماؤں کے مابین اختلاف رائے پایا جاتا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس عداوت میں اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے ایلیکس اسٹرک اور فیِلکس کیوہن کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کے خلاف بڑا آپریشن کیا جاتا ہے، تواس سے حالات کو معمول پر لانا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ اسٹرک اور کیوہن ایک طویل عرصے تک افغانستان میں کام کرتے رہے ہیں۔

Separating Taliban from Al-Qaeda: Core of Success کے نام سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے: ’’اگر طالبان کے سرکردہ رہنماؤں یا کمانڈروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو اس سے ایسے نوجوانوں کے لیے اس تحریک میں شامل ہونے کے راستے کھل جائیں گے، جو زیادہ شدت پسند ہیں۔ اس صورتحال سے سب سے بڑا فائدہ القاعدہ ہی کو ہو گا۔‘‘

Gesucht: Mullah Mohammed Omar

ستمبر 2001ء کے حملوں سے قبل القاعدہ اور طالبان کے مابین اختلافات موجود تھے، امریکی ماہرین

اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ طالبان کی سینئر قیادت سے بات چیت کرے، قبل اس کے کہ ان لیڈروں کی اپنی ہی تحریک پر گرفت کمزور پڑ جائے۔

اس رپورٹ میں نیٹو کی مخالفت تو نہیں کی گئی تاہم یہ ضرور کہا گیا کہ نیٹو کوجنگی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مذاکرات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ نیو یارک یونیورسٹی کے ان اسکالرز کے مطابق،’افغانستان کے مسئلے کا حل صرف سیاسی کوششوں کی مدد سے ہی ممکن ہے۔ اسی طرح عسکریت پسندی میں اضافے کا سبب بننے والی وجوہات میں کمی واقع ہو گی، ورنہ یہ بحران مزید بڑھ بھی سکتا ہے‘۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس