1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ امریکی ٹرینوں کو نشانہ بنانا چاہتی تھی، امریکی حکام

پاکستان میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے سے ملنے والی خفیہ معلومات سے دہشت گردی کے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق القاعدہ نیٹ ورک امریکی ٹرینوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

default

امریکی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ اس بات کا انکشاف پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے سے ملنے والی خفیہ معلومات سے ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان معلومات کے مطابق القاعدہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کی دس سال مکمل ہونے پر ٹرینوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتی تھی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی ڈپارٹمنٹ برائے ہوم لینڈ سکیورٹی نے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو بتایا کہ القاعدہ یہ کارروائیاں نامعلوم مقامات پر کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

اس امریکی محکمے کے مطابق، ’یہ واضح ہے کہ ایسی کوئی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، تاہم ہمیں کسی ایسے منصوبے کی خبر نہیں جس پر کام جاری ہو۔ نہ ہی مخصوص اہداف کا پتہ چلا ہے۔‘

اُدھر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ایبٹ آباد میں اسامہ کے ٹھکانے کی نگرانی کے لیے خفیہ مرکز بنا رکھا تھا۔ وہاں سے نگرانی کا عمل مہنیوں سے جاری تھا۔

اس مقصد کے لیے پاکستانی مخبروں اور دیگر ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے کمپاؤنڈ میں رہنے والوں کے خاکے، طرز زندگی اور روز مرّہ کے معمولات کا پتہ چلایا گیا۔

Pakistan Terror Haus von Osama bin Laden in Abbottabad

اسامہ کے ٹھکانے کی مہینوں نگرانی کی گئی

واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ برس اگست میں کمپاؤنڈ کا پتہ چلنے کے بعد اس کی نگرانی کا عمل اس قدر وسیع تھا کہ اس کی فنڈنگ کے لیے سی آئی اے نے کانگریس سے اختیارات حاصل کیے۔

نگرانی کی ان کوششوں میں سیٹیلائٹ سے تصاویر کا حصول اور کمپاؤنڈ کے اندر کی آوازوں کو ریکارڈ کرنا شامل تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی کمانڈوز نے اس خفیہ مرکز کو اسامہ کے ٹھکانے پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا۔

واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکومت کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا، ’انٹیلیجنس کا یہ کام بالکل اسی طرح مکمل ہو گیا تھا، جیسا سوچا گیا تھا، اور کام ختم کرنے کی باری فوج کی تھی۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM