1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الطاف حسین کے خلاف کارروائی، پاکستان کا برطانیہ سے رابطہ

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیانات نے پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ وفاقی حکومت نے الطاف حسین کے پاکستان مخالف خطاب پر برطانوی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی حکومت اور نواز لیگ کے ذرائع نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وزارت داخلہ برطانوی حکومت کو خط لکھ کر اُسے الطاف حسین کے اشتعال انگیز بیان سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے آگاہ کرے گی اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کرے گی کہ وہ الطاف حسین کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے۔ تاہم وفاقی حکومت اور نون لیگ کے ان ذرائع کے خیال میں برطانوی حکومت الطاف حسین کے خلاف کوئی سخت اقدامات نہیں کرے گی اور ماضی کی طرح مختلف نوعیت کے عذر پیش کیے جائیں گے۔
نون لیگ کے مرکزی رہنما سینیٹر مشاہد اللہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’وفاقی حکومت الطاف حسین کی تقریر پر سخت برہم ہے اور حکومت ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے ہر حد تک جائے گی۔ برطانوی حکومت سے ان کے خلاف ایکشن کے لیے رابطہ کیا جا رہا ہے اور حکومت الطاف حسین کے خلاف سخت سے سخت ایکشن کا مطالبہ کرے گی۔ وزارتِ داخلہ اور حکومت کے دیگر ادارے اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں۔‘‘
الطاف حسین کے بیان کے خلاف آج ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے اور ایم کیو ایم کے کئی رہنماوں نے پارٹی قائد کے بیان سے لا تعلقی کا اظہار بھی کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے کہا، ’’الطاف حسین نے سنگین بات کی ہے۔ یہ سپریم کورٹ پر حملے جیسی سنگین بات ہے۔ الطاف حسین نے نام لے کر تین چینلز پر حملہ کرنے کا کہا، اب آرٹیکل چھ کا اطلاق سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔‘‘
قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا، ’’الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف بات کر کے خود اپنی شہریت ختم کر دی ہے۔ حکومت برطانوی ہائی کمشنر کوطلب کرے۔ اُن کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ پیپلز پارٹی سمیت کوئی جماعت بھی ملک کی عزت پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی ۔‘‘

Pakistan Paramilitär verschließt Hauptsitz der MQM in Karachi

سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ صرف سیاست دان ہی نہیں جو الطاف حسین کے بیان پر چراغ پا ہیں بلکہ سول سوسائٹی بھی اس پر سخت برہم ہے


سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ صرف سیاست دان ہی نہیں جو الطاف حسین کے بیان پر چراغ پا ہیں بلکہ سول سوسائٹی بھی اس پر سخت برہم ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں ایم کیوایم کے خلاف ایک پٹیشن دائر ہوگئی ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ایم کیوایم کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے۔
آج پاکستان کے ذرائع ابلاغ بھی سارا دن الطاف حسین کے بیان سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بحث کرتے رہے۔ دارالحکومت اسلام آباد میں آج یہ افواہیں گردش کرتی رہی کہ ایم کیو ایم پر پابندی کی کوئی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی۔
الطاف حسین کے بیان سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد نے کہا، ’’الطاف حسین کے بیان سے پارٹی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اس بیان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایم کیو ایم میں ایک اور دھڑا بنائے گی، جو ان کا تابعدار ہو اور ان کے اشاروں پر چلے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’نواز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں کئی امور پر اختلافات ہیں لیکن ایم کیو ایم کے مسئلے پر وہ ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں۔ وفاقی حکومت ان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کر سکتی ہے جب کہ پنڈی والے الطاف حسین کے اس بیان کو نہیں بھولیں گے۔ تاہم کراچی میں الطاف کی مقبولیت برقرار رہے گی اگر پارٹی میں بڑے پیمانے پر دھڑے بندی نہیں ہوتی۔‘‘
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ امان میمن نے کہا، ’’اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم کو کسی نہ کسی صورت زندہ رکھنا چاہتی ہے تاکہ وہ اس کے وجود سے سیاسی فائدے اٹھا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’یہ غیر معمولی بات ہے کہ پہلے مودی کا ایک بیان آتا ہے، جس کا براہمداغ بگٹی کی طرف سے خیر مقدم کیا جاتا ہے اور اس کے بعد الطاف حسین کے انتہائی پاکستان مخالف بیانات سامنے آ تے ہے، جس سے ان شبہات کو تقویت ملتی ہے کہ را پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے اور اس کے خلاف سازشیں کر رہی ہے۔‘‘