1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الطاف حسین نے آرمی چیف سے معافی مانگ لی

الطاف حسین نے پاکستان آرمی کے سربراہ کے ساتھ ساتھ ڈی جی رینجرز سے بھی اپنی ’پاکستان مخالف‘ تقریر پر معافی مانگ لی ہے۔ گزشتہ روز اپنی تقریر میں انہوں نے پاکستان کو ’دنیا کے لیے ایک ناسور‘ کہا تھا۔

ایم کیو ایم کے ترجمان واسع جلیل نے ٹوئٹر پر الطاف حسین کا معافی نامہ شائع کیا۔ اس بیان میں الطاف حسین کی جانب سے لکھا گیا ہے،’’میں پاکستان، جنرل راحیل شریف اور ڈی جی رینجرز کے خلاف ادا کیے گئے اپنے الفاظ پر دل کی گہرائیوں سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘

الطاف حسین اس بیان میں کہتے ہیں،’’اپنے ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل، ان کی مسلسل گرفتاریوں اور ان کی مشکلات کو دیکھ کر میں شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوا، بھوک ہڑتال پر بیٹھے ساتھیوں کی بگڑتی صورتحال کو دیکھ کر میں نے ان ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف الفاظ استعمال کیے، جو انتہائی شدید ذہنی دباؤ کا نتیجہ تھے۔‘‘

سوشل میڈیا پر الطاف حسین کی اس تقریر کے وہ حصے شیئر کیے جا رہے ہیں، جن میں وہ پاکستان کے خلاف نعرے لگا اور لگوا رہے ہیں اور پاکستان کو دنیا کے لیے ایک کینسر قرار دے رہے ہیں۔

الطاف حسین نے اپنے معافی نامے میں کہا کہ گزشتہ روز جو کچھ میڈیا کے ساتھ ہوا، اس کے لیے وہ میڈیا سے بھی معافی کے طلب گار ہیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے گرفتار شدہ رہنماؤں اور کارکنوں کو جلد از جلد رہا کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ’ایم کیو ایم‘ کے مظاہرین نے کراچی میں نیوز چینل اے آر وائی کے دفتر پر حملہ کر دیا تھا۔ اے آر وائی نیوز نے اپنی ٹرانسمیشن کے دوران اپنے دفتر پر ہونے والے حملے کی فوٹیج میں دکھایا کہ کیسے حملہ آور دفتر میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق شہر کے وسطی علاقے میں واقع اے آر وائی کے دفتر اور قریبی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور فائرنگ سے ایک شخص کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

کراچی میں اس حملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’لاقانونیت کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ رینجرز کی نفری کو اے آر وائی نیوز کے دفتر کے باہر تعینات کر دیا گیا ہے۔‘‘

نیوز ایجسنی اے پی کی ایک رپورٹ کے مطابق رینجرز نے ایم کیو ایم کے دفاتر کو بند کر دیا ہے۔ بریگیڈیئر خرم شہزاد نے اے پی کو بتایا، ’’رینجرز کے اہلکاروں نے کراچی، حیدر آباداور دیگر شہروں میں ایم کیو ایم کے دفاتر کو بند کر دیا ہے، کچھ دفاتر سےاسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ دوسری جانب پاکستانی میڈیا میں شائع ہونی والی خبروں کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل کا کہنا ہے کہ لوگ پُر امن طریقے سے ARY نیوز کے دفتر کے باہر اس چینل کی جانبدارانہ رپورٹنگ پر احتجاج کر رہے تھے لیکن پولیس نے ان مظاہرین پر فائرنگ شروع کر دی تھی۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر سید علی رضا عابدی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ’’ایم کیو ایم تین برسوں سے پُر امن طریقے سے مظاہرے کر رہی ہے، فوارہ چوک پر پہلے سے موجود نامعلوم افراد اس حملے میں ملوث تھے۔‘‘

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور آئی جی سندھ سے اس کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے سندھ پولیس کو عوام اور صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملے کی مذمت کر چکےہیں۔

DW.COM