1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الطاف حسین سے لاتعلقی کے باوجود نشانے پر ہیں، فاروق ستار

فاروق ستار اور اظہار الحسن نے کہا ہے کہ الطاف حسین سے مکمل لاتعلقی کے باوجود ان کے سیاسی دفاتر کی بندش غیر قانونی ہے۔ دونوں سیاستدانوں نے خواتین پارٹی کارکنوں کی گرفتاری کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فاروق ستار اور اظہار الحسن نے ہفتے کے دن کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے ایم کیو ایم لندن سے اپنا رابطہ ختم کر لیا ہے لیکن انہیں پھر بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب پاکستان میں ایم کیو ایم کا لندن دفتر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

DW.COM

قومی اسمبلی کے رکن اور ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے کہا کہ لندن دفتر سے رابطہ ختم کرنے کے باوجود حکام کراچی اور صوبہ سندھ کے مختلف علاقوں میں پارٹی کے دفاتر کو غیرقانونی اور غیر آئینی طریقے سے مسمار کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس تناظر میں مزید کہا کہ ملکی میڈیا میں بھی ان کی پارٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

فاروق ستار نے واضح کیا کہ پاکستان میں ایم کیو ایم کا اب الطاف حسین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پاکستان میں اس پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن بند کیا جائے، ’’ہم نے جب کہہ دیا کہ ہمارا اب لندن دفتر سے کوئی تعلق نہیں ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس سے رابطے میں نہیں ہیں۔ شک کرنے کا عمل ختم کر دیا جائے۔‘‘

فاروق ستار نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ ان کا قانونی اور سیاسی حق ہے، ’’صرف کسی ایک فرد کی تقریر کے بعد کسی سیاسی پارٹی کے دفاتر کیسے سیل کیے جا سکتے ہیں۔ ہم نے اس فرد سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔‘‘

Pakistan Portrait des MQM-Führers Altaf Hussain

الطاف حسین کی طرف سے پاکستان مخالف بیانات پر انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے

فاروق ستار نے مزید کہا کہ کارکنوں کی گرفتاریوں اور دفاتر کی مسماری سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ حکومت کو مسئلہ صرف الطاف حسین سے نہیں بلکہ ایم کیو ایم سے ہے۔

اس جذباتی پریس کانفرنس میں فاروق ستار اور اظہار الحسن نے سندھ پولیس کی طرف سے پارٹی کی خواتین کارکنوں کی گرفتاری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، ’’خواتین کو کیسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ گرفتار کی گئی متعدد خواتین معصوم ہیں۔ ہم اس پیشرفت پر بہت زیادہ پریشان ہیں۔‘‘