1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الشباب کے خلاف افریقی یونین کی فورسز کی تازہ کارروائیاں

افریقی یونین اور صومالی حکومت کی فورسز نے ہفتے کو صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں الشباب ملیشیا کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ یہ کارروائی دارالحکومت سے باغیوں کے انخلاء کے دو ماہ بعد شروع کی گئی ہے۔

default

صومالیہ میں افریقی یونین کی فورسز، فائل فوٹو

کارروائی کا مقصد القاعدہ سے روابط رکھنے والے الشباب کے عسکریت پسندوں کے بچے کھچے عناصر کا صفایا کرنا ہے۔ اس کارروائی کو گزشتہ منگل کے روز اب تک ہونے والے سب سے ہلاکت خیز حملے سے بھی تحریک ملی ہے جس میں عسکریت پسندوں نے ایک سرکاری عمارت کے باہر دھماکہ خیز مواد سے بھرے ہوئے ٹرک کو اڑا دیا تھا۔ اس حملے میں کم از کم 82 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شمالی کاران ضلع میں جہاں لڑائی جاری ہے کے سربراہ عبد اللہ محمد روبل نے کہا، ’’موغادیشو کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے صومالیہ کے فوجی دستے اور ان کی معاونت کرنے والے افریقی امن فوجی نئے علاقوں میں پہنچے ہیں۔‘‘

Soldaten der Al-Shabab-Miliz vor Mogadischu

تازہ کارروائی موغادیشو سے الشباب ملیشیا کے عسکریت پسندوں کے انخلاء کے دو ماہ بعد شروع کی گئی ہے

انہوں نے بتایا کہ فورسز نے علی الصبح کیسانی ہسپتال کا کنٹرول سنبھال لیا اور ضلع میں کافی آگے تک پیشقدمی کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مشن کا مقصد پورے شہر سے الشباب کے باقی عناصر کا خاتمہ کرنا ہے۔

افریقی یونین کے فورس کمانڈر میجر جنرل فریڈ موگیشا کے مطابق عسکریت پسندوں کے جنگ زدہ موغادیشو سے انخلاء کے بعد اب شہر کے 95 فیصد حصے پر فوج کا قبضہ ہے۔

الشباب کے عسکریت پسندوں نے چار برس قبل مغربی حمایت یافتہ موغادیشو حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ اگرچہ وہ دارالحکومت سے جا چکے ہیں مگر اپنی گوریلا کارروائیوں کے باعث اب بھی وہ استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

الشباب ملیشیا کے ایک نام ظاہر نہ کرنے والے کمانڈر نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اتحادی فورسز نے آج صبح جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ہم نے انہیں بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کے بعد وہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔‘‘

علاقے کے رہائشیوں نے سخت لڑائی کی اطلاع دی ہے اور افریقی یونین اور صومالی حکومت کے فوجی دستوں کو بکتر بند گاڑیوں میں ضلع کی جانب بڑھتے دیکھا گیا۔

عبد اللہ معلم  نامی ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے بہت سے ٹینک اور افریقی یونین اور صومالی حکومت کے فوجیوں کو کیسانی علاقے کی جانب بڑھتے دیکھا۔ اس کے بقول سخت فائرنگ کے تبادلے کی بھی آوازیں سنائی دیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM