1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

السعدی قذافی پر تشدد کی ویڈیو، انکوائری شروع

لیبیا کے وفاقی استغاثہ نے ان گارڈز کی شناخت کی کوشش شروع کر دی ہے، جنہوں نے طرابلس کی ایک جیل میں مقتول معمر القذافی کے بیٹے السعدی قذافی کو بظاہر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گارڈز السعدی قذافی کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بیالیس سالہ السعدی کو گزشتہ برس نائجر سے لیبیا منتقل کیا گیا تھا۔ وہ تب سے ہی طرابلس کی الہضبہ نامی جیل میں مقید ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ جب وہ لیبیا کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ تھے تو وہ ایک فٹ بالر کے قتل میں ملوث ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں دیگر مجرمانہ مقدمات کا سامنا بھی ہے۔

یہ ویڈیو قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو سزائے موت سنائے جانے کے ایک ہفتے بعد منظر عام پر آئی ہے۔ اس ویڈیو میں جیل کے گارڈز پوچھ گچھ کےعمل کے دوران بظاہر السعدی کے چہرے پر طمانچے مار رہے ہیں۔ انٹر نیٹ پر جاری کی جانے والی اس ویڈیو میں دیکھایا گیا ہے کہ پہلے السعدی کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ان کے کمرے کے باہر دیگر قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاکہ ان کی چیختی آوازوں سے السعدی کو نفسیاتی طور پر ہراساں کیا جا سکے۔

Saif al-Islam Gaddafi

اس سے قبل سیف الاسلام قذافی کو سزائے موت سنا دی گئی تھی

ویڈیو کے مطابق السعدی کو اُلٹا لیٹا کر ان کے پاؤں کے تلوں پر لاٹھی سے ضربیں بھی لگائیں گئیں۔ تشدد کے اس عمل کے دوران ویڈیو میں السعدی کی چیخیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی اس ویڈیو کے حقیقی ہونے کے بارے میں تصدیق نہیں کر سکی ہے۔

تاہم لیبیا کے وفاقی استغاثہ نے اس ویڈیو کے منظر عام پر آن کے بعد فوری کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ لیبیا کے حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے اس ویڈیو میں بظاہر السعدی کو تشدد کا نشانہ بنانے والے محافظوں کی شناخت کی کوشش شروع کر دی ہے۔ وفاقی استغاثہ کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’ان محافظوں کی شناخت کرنے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ دفتر کے نائب سربراہ جو اسٹروک نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس ویڈیو میں دیکھائے جانے والے پرتشدد مناظر پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس ویڈیو کے مطابق الہضبہ جیل میں السعدی قذافی اور دیگر قیدیوں سے پوچھ گچھ کے دوران جو طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، وہ قابل مذمت ہیں۔‘‘

دوسری طرف انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے لیبیا میں عدالتی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں قانونی پیچیدگیوں اور مسائل کی وجہ سے شفاف مقدمات چلائے جانے انتہائی مشکل ہیں۔ یاد رہے کہ لیبیا میں سیف الاسلام کے علاوہ معمر القذافی کے دور اقتدار کی متعدد اہم شخصیات کو موت کی سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔