1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الرقہ کے باسیوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت

امریکا کی سربراہی میں اتحادی افواج نے شام کے شہر الرقہ کے باسیوں کو شہر چھوڑ دینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ داعش کے جنگجو شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

Syrien Kämpfe im Grenzgebiet zu Türkei

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ لوگوں کو شہر چھوڑنے کا کہا گیا ہے

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق اتحادی افواج نے جہازوں کے ذریعے شامی شہر الرقہ میں پمفلٹ گرائے ہیں جن میں شہر کے باسیوں کو علاقے سے نکل جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ الرقہ میں موجود ’شہری صحافت‘ کی ایک تنظیم ’آر بی ایس ایس‘ کے بانی رکن ابو محمد نے اے ایف پی کو بتایا، ’’یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اتحادی افواج کے جہازوں نے شہر میں پمفلٹ گرائے ہیں لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ لوگوں کو شہر چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔‘‘ ابو محمد کے مطابق اکثر پمفلٹس میں شدت پسند تنظیم داعش، جسے اسلامک اسٹیٹ بھی کہا جاتا ہے، کو خبرادار کیا جاتا ہے کہ ان تک پہنچ کر ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔

آر بی ایس ایس نے اپنے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ پر فضا سے پھینکے گئے پرچوں کی تصاویر بھی شئیرکی ہیں۔ ان پرچوں پر تصاویر بنی ہوئی ہیں اور ان پر لکھا گیا ہے، ’’وہ وقت آگیا ہے جس کا تمہیں انتظار تھا، الرقہ چھوڑنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘ ابو محمد کا کہنا ہے کہ شہر میں داعش کے جنگجو شہریوں کو اتحادی افواج کی بمباری کے خلاف انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ابتدا میں جنگوؤں کے ٹھکانے واضح ہوتے تھے لیکن اب داعش کے جنگجو عام شہریوں کے بیچ چھپتے ہیں۔‘‘

شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیم ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق سن 2014 کے آغاز سے اب تک شام میں 408 عام شہری اتحادی افواج کی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس ادارے کے سربراہ رامی عبدالرحمان کہتے ہیں، ’’پہلی مرتبہ لوگوں کو شہر چھوڑنے کا کہا گیا ہے لیکن دراصل یہ داعش کے خلاف جاری پراپیگینڈا مہم کا ایک حصہ ہے۔‘‘

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق الرقہ کا شمالی حصہ کرد افواج کے کنٹرول میں ہے۔ واشنگٹن کی نظر میں داعش کے خلاف کرد افواج نہایت موثر ہیں اور انہیں امریکی امداد بھی دی جاتی ہے۔ عبدالرحمان کہتے ہیں، ’’بعض اطلاعات کے مطابق کرد افواج اتحادی فوجوں کی مدد سے الرقہ میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف ایک مہم تیار کر رہی ہیں۔‘‘ عبد الرحمان کی رائے میں ایسا عنقریب نہیں ہوگا بلکہ اس جنگ کے لیے باقاعدہ پلاننگ اور بڑے پیمانے پر تیاری کرنا ہوگی اور داعش کے خلاف جنگ کے لیے عوامی حمایت بھی درکار ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ، ’’اگر داعش کو الرقہ میں کسی بڑے حملے کا خطرہ ہوتا تو وہ اپنے بہترین جنگوؤں کو حلب میں لڑنے کے لیے نہ بھیجتے۔‘‘

Symbolbild Rakka Kämpfer der IS

اطلاعات کے مطابق کرد افواج اتحادی فوجوں کی مدد سے الرقہ میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف ایک مہم تیار کر رہی ہیں

واضح رہے کہ اسلامک اسٹیٹ اور اس کی حریف شدت پسند تنظیم القاعدہ حکومتی افواج اور دیگر باغی گروہوں کے مابین ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ ان پر نہ صرف اتحادی افواج بلکہ شام کی حکومت اور اس کے اتحادی روس کی جانب سے بھی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

DW.COM