1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الرقہ کو داعش سے چھڑانے کا آپریشن’ غضبِ فرات‘ شروع ہو گیا

سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے جنگ جووں نے جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے شام میں مرکز کی بازیابی کی عسکری مہم شروع کر دی ہے۔ ان فائٹرز کو امریکی فضائی فوج کا تعاون بھی حاصل رہے گا۔

Syrien Rebellen der Syrischen Democratischen Kräfte geben Pressekonferenz in Rakka (REUTERS/R. Said)

عین عیسیٰ کے مقام پر کھڑے ایس ڈی ایف کے کمانڈر

شمالی شام کے کرد فائٹرز  اور عرب قبائل کے جنگ جووں کے گروپ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خود ساختہ دارالخلافہ الرقہ کی بازیابی کی فوجی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اِس گروپ کی خاتون ترجمان جیہان شیخ احمد کے مطابق الرقہ کے شمال میں واقع قصبے عین عیسیٰ میں کمانڈ مرکز قائم کر دیا ہے۔ آپریشن کا نام ’غضبِ فرات‘ رکھا گیا ہے۔ عین عیسیٰ پر کرد فائٹرز نے مکمل قبضہ رواں برس جولائی میں کیا تھا۔

خاتون ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ الرقہ کی بازیابی کے فوجی آپریشن میں تیس ہز ار فائٹرز شریک ہیں۔ ان فائٹرز میں کرد، عرب اور ترکمان افراد شامل ہیں۔ اس عسکری مہم میں  سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے حلیف امریکا کی فضائی فوج کے لڑاکا طیارے زمین پر لڑنے والے ایس ڈی ایف (SDF) فائٹرز کی معاونت کرتے ہوئے جہادیوں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گی۔کرد فائٹرز نے الرقہ کی سویلین آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

Syrien SDF Kämpfer (picture-alliance/NurPhoto/S. Backhaus)

الرقہ کی جانب بڑھنے والے ایس ڈی ایف کے مسلح اہلکار

 عین عیسیٰ میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ہفتہ پانچ نومبر کی رات سے عسکری مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ کرد، عرب اور ترکمان فائٹرز نے الرقہ سے پچاس کلومیٹر دور واقع عین عیسی ٰ سے اپنی منزل کی جانب انتہائی مشکل سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکا اِس پر راضی ہو گیا ہے کہ الرقہ کی بازیابی کی عسکری مہم میں ترکی کسی بھی جنگی عمل میں کوئی فوجی کردار ادا نہیں کرے گا۔ اس امریکی فیصلے کا اعلان بھی کرد فائٹرز کی خاتون ترجمان نے پریس کانفرنس میں کیا۔ ایک اور کرد رہنما طلال سیلو نے واضح کیا کہ ’غضب فرات‘ کے فوجی مشن میں ترک فوج کوئی کردار کسی بھی صورت میں ادا نہیں کرے گی۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکا ایس ڈی ایف میں شامل شامی کردوں کا اپنا قابل اعتماد پارٹنر قرار دیتا ہے۔ ترکی ان کو دہشت گرد خیال کرتا ہے۔ موصل کی بازیابی کی مہم کے تقریباً دو ہفتوں بعد الرقہ کی جانب امریکی حمایت کردوں نے چڑھائی کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب فرانس کے وزیر دفاع ژاں ایو لیدریاں نے دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف قائم عسکری اتحاد سے آج اتوار چھ نومبر کو کہا ہے کہ وہ موصل شہر کی بازیابی کے عسکری آپریشن کے ساتھ ساتھ شام میں اِس تنظیم کے گڑھ الرقہ کا قبضہ چھڑانے کا فوجی آپریشن شروع  کرے۔ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف قائم ملٹری اتحاد میں امریکا کے بعد فرانس کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔