1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

الجیرین مہاجر کو پیرس حملے کا پیشگی علم کیسے؟ تفتیش شروع

جرمن حکام نے الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک پناہ گزین کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ مبینہ طور پر اسے پیرس پر ہونے والے حملوں کی پہلے سے معلومات تھیں لیکن اس نے حکام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔

جرمنی کے دارالحکومت برلن سے موصولہ خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک پناہ گزین کو پیرس حملوں سے متعلق مبینہ طور پر پہلے سے معلومات تھیں۔ مشتبہ شخص کو گزشتہ ہفتے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق الجیریا سے تعلق رکھنے والے تارک وطن نے پناہ گزینوں کے کیمپ میں موجود شامی مہاجرین کو پیرس حملوں سے پہلے ایک گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ پیرس میں ایک بم دھماکا ہونے والا ہے۔ پناہ گزینوں کا مذکورہ کیمپ جرمنی کے مغربی صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر آرنسبرگ میں واقع ہے۔

وفاقی دفتر استغاثہ کے ترجمان نے نیوز ایجنسی روئٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے ملزم سے تفتیش شروع کر دی ہے۔‘‘ ترجمان کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص پر الزام ہے کہ اسے مبینہ طور پر پیرس حملوں کی تفصیلات پہلے سے معلوم تھیں لیکن اس نے سیکورٹی حکام کو اس بابت مطلع نہیں کیا۔

الزامات کے قابل بھروسہ ہونے کے حوالے سے ابھی تک مقامی دفتر استغاثہ اس شخص سے پوچھ گچھ کر رہا تھا۔ تاہم مرکزی دفتر استغاثہ کی جانب سے تفتیش کو اپنے ہاتھ میں لینے کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام ان الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ وفاقی دفتر استغاثہ کے ترجمان کا کہنا ہے، ’’مزید تفتیش کے بعد ہی بتایا جا سکتا ہے کہ الزامات حقیقی ہیں یا نہیں۔‘‘

نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیر داخلہ رالف کا کہنا ہے کہ مشتبہ مہاجر بدستور تحویل میں ہے لیکن وہ تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا اور وہ اس بارے میں بات کرنے سے بھی انکاری ہے۔

DW.COM