1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الجزائر میں پر تشدد مظاہرے، مغربی ممالک کی تنقید

الجزائر میں سینکڑوں حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے مابین ہونے والے تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ جرمنی اور امریکہ نے الجزیرہ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کا ناجائز استعمال نہ کرے۔

default

اتوار کو الجزائر کے شہر Annaba میں اپوزیشن نے حکومت مخالف مظاہروں کا اہتمام کیا، جن میں سینکڑوں افراد نے شریک ہو کر صدر عبدالعزیز بوتفليقا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منشتر کرنے کی کوشش کی تو اطراف کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔ تصادم کے دوران مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔

اطلاعات کے مطابق اس احتجاج کے دوران پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا اور صحافیوں پر بھی تشدد کیا گیا۔ ملک میں تبدیلی کی خواہاں اپوزیشن کے سرکردہ رہنما مصطفےٰ بوشاشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے اوراس سلسلے میں 19 فروری کو دوبارہ احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

Algerien Algier Unruhen Proteste Demonstration NO FLASH

مغربی ممالک نے الجزائر میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر مذمت کی ہے

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ہفتے کے روز بھی ملکی دارالحکومت الجزائر میں ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ اس مظاہرے میں کم از کم دو ہزار افراد نے شرکت کی تھی جبکہ اس دوران 30 ہزار سکیورٹی اہلکار خصوصی طور پر وہاں متعین کیے گئے تھے۔

تیونس اور مصر کے بعد اب دیگر ممالک کے عوام کو بھی یہ تحریک ملی ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے ملکوں میں ’ناپسندیدہ لیکن برسر اقتدار‘ حکمرانوں کو ایوان ہائے اقتدار سے الگ کر دیں۔ الجزائر کے علاوہ ایسے مظاہرے یمن میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف امریکی حکام نے الجزائر میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال کی مذمت کی ہے۔ واشنگٹن حکومت نے کہا ہے کہ الجزائر میں سکیورٹی فورسز تحمل کا مظاہرہ کریں۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان فلپ کراؤلی نے کہا، ’ہم الجزائر کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ انہی حقوق میں آزادی رائے اور اسمبلی کا حق بھی شامل ہے۔‘

اسی طرح جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے بھی الجزائر کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کا سہارا نہ لے۔ اتوار کو اپنے ایک نشریاتی انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’جرمن حکومت الجزائر پر زور دیتی ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف ہر قسم کے تشدد سے باز رہے۔‘ ویسٹر ویلے نے مزید کہا کہ الجزائر کے لوگ صرف اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ ’’مظاہرین آزادی چاہتے ہیں۔‘‘

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM