1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

الجزائر: دنیا کی ایک بڑی مسجد زیر تعمیر، مینار بلند ترین

شمالی افریقی ملک الجزائر میں جماع الجزائر نامی ایک ایسی مسجد تعمیر کی جا رہی ہے، جو وہاں کے حکام کے مطابق دنیا کی بڑی مساجد میں سے ایک ہو گی اور اس میں بیک وقت ایک لاکھ بیس ہزار افراد نماز ادا کر سکیں گے۔

Algerien Baustelle Moschee Djamaa El Djazair

ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والی اس مسجد میں ایک لاکھ بیس ہزار نمازیوں کی گنجائش ہو گی

معدنی تیل کی دولت سے مالا مال الجزائر میں پہلے ہی تیس ہزار سے زائد مساجد موجود ہیں تاہم وہاں ایک بڑی مسجد کی تعمیر کا خواب 1962ء سے دیکھا جا رہا ہے، جب الجزائر کو فرانس سے آزادی ملی تھی۔ اس خواب کی تعبیر 1999ء سے ملک کے صدر چلے آ رہے اُناسی سالہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے دور میں ہو رہی ہے، جو مذہب پر سختی سے کاربند رہنے کے ساتھ ساتھ اسلامی ثقافت اور فنون کے بھی دلدادہ ہیں۔

وسیع رقبے پر تعمیر کی جانے والی جماع الجزائر کا مرکزی ہال ہی بیس ہزار مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہو گا۔ 1.4 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والی اس مسجد میں ایک لاکھ بیس ہزار نمازیوں کی گنجائش ہو گی۔ اس کمپلیکس کے ایک جانب ایک جدید سیاحتی مرکز ہے جبکہ دوسری جانب مزدور طبقے کے رہائشی علاقے ہیں۔ اس مسجد کا رُخ خلیج الجزائر کے خوبصورت مناظر کی جانب ہو گا۔

Algerien Visualisierung Moschee Djamaa El Djazair

اس مسجد کا مینار اپنی 265 میٹر (874 فٹ) بلندی کے ساتھ دنیا کا سب سے اونچا مینار ہو گا

مسجد کا مینار اپنی 265 میٹر (874 فٹ) بلندی کے ساتھ دنیا کا سب سے اونچا مینار ہو گا۔ مسجد کے ساتھ ساتھ ایک ملین کتابوں کی حامل ایک لائبریری، ایک قرآنی مدرسہ اور اسلامی فنون اور تاریخ کا ایک عجائب گھر بھی ہوں گے۔

1990ء کے عشرے میں یہ شمالی افریقی ملک حکومت اور مسلمان انتہا پسندوں کے درمیان ایک ہولناک خانہ جنگی کی زَد میں رہا۔ اس دوران تقریباً دو لاکھ انسان موت کا شکار ہوئے۔ اگرچہ اس خانہ جنگی کو ختم ہوئے دو عشرے سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے تاہم اس ملک میں اب بھی مسلح گروپ سرگرم ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران ایسے متعدد دہشت گردانہ حملے ہوتے رہے ہیں، جن کی ذمے داری القاعدہ کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

یہ مسجد ہاؤسنگ کے وزیر احمد مدنی کی نگرانی میں تعمیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسجد عام شہریوں کو انتہا پسند حلقوں سے دور لے جانے میں معاون ثابت ہو گی۔ مدنی کے مطابق کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ یہ مسجد انتہا پسندوں کا مرکز بن جائے گی تاہم درحقیقت یہ مسجد اُلٹا انتہا پسندوں کے لیے ایک دھچکا ثابت ہو گی، جو اُن کے بقول شروع سے اس منصوبے کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔

یہ مسجد، جسے ایک چینی تعمیراتی کمپنی تعمیر کر رہی ہے، 2017ء میں مکمل ہو جائے گی۔ مدنی کے مطابق یہ مسجد الجزائر میں اعتدال پسند اسلام کی ایک علامت ہو گی اور انتہا پسندی کی تمام تر صورتوں کے خلاف ایک ڈھال کا کام دے گی۔

DW.COM