1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الجزائر: خود کش حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک

الجزائر میں جمعہ کی شام ایک ملٹری اکیڈمی میں ہونے والے خودکش حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

default

الجزائر کے دارالحکومت سے مغرب کی سمت میں تقریباً ایک سو کلو میٹر کی دوری پر واقع ساحلی قصبے شرشال میں واقع فوجی تربیتی مرکز کو انتہاپسندوں نے نشانہ بنایا۔ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ اس حملے میں دو بمبار شریک تھے۔ ایک خود کش بمبار موٹر سائیکل پر سوار تھا۔ انہوں نے آفیسرز میس کے سامنے واقع داخلی دروازے کو ہدف بناتے ہوئے بارودی بیلٹوں کو اڑا دیا۔ تربیتی افسران دھماکے کے وقت روزہ افطار کر رہے تھے۔ خودکش حملے افطار کے دس منٹ بعد کیے گئے۔ اس پرتشدد واقع کی رپورٹ الجزائر کے فرانسیسی زبان کے اخبار الوطن نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کی ہے۔

شرشال کے مقامی ہسپتال ذرائع نے کم از کم سولہ لاشیں وصول کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ہلاک شدگان میں سولہ فوجی اور دو شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو دو قریبی شہروں سیدی غیلاس اور تپازہ پہنچایا گیا۔ شدید زخمیوں کو عین نعجہ ملٹری ہسپتال تک بھی لے جایا گیا۔

ہلاکتوں کے بارے میں متضاد تعداد سامنے آ رہی ہے۔ سرکاری حکام نے یہ تعداد دس بتائی ہے جبکہ شروع میں یہ تعداد چھتیس تک بیان کی جا رہی تھی۔

شرشال کا ساحلی قصبہ الجزائر کے صوبے تپازہ میں واقع ہے۔ اس کی آبادی تیس ہزار سے زائد ہے۔ شرشال کی بندر گاہ فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں بحریہ کے لیے اہم تھی۔ اسی مناسبت سے یہ آج بھی اہم تصور کی جاتی ہے۔

الجزائر کو مسلم انتہاپسندی کا کئی برسوں سے سامنا ہے۔ وہاں کے انتہاپسند حکومت کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ان کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ الجزائر کے سرگرم انتہاپسندوں کو القاعدہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔

 

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس