1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

التباس پر امن کا قیام ممکن نہیں، اسرائیلی وزیراعظم

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر باراک اوباما کے اُس نئے وژن کو مسترد کر دیا ہے، جس میں اوباما نے کہا تھا کہ فلسطین اور اسرائیلی سرحدوں کا تعین 1967ء کی چھ روزہ مختصر جنگ سے قبل کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

default

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے پانچ روزہ دورہء امریکہ کے دوران جمعے کو امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار قیام امن کے لیے دونوں کے مابین اختلافات پائے جاتے ہیں۔

جمعرات کو امریکی صدر باراک اوباما نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک کے لیے اپنے نئے وژن کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران اوباما نے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ناگزیر ہے کہ اسرائیلی حکومت مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کی سرحدوں کا تعین 1967ء کی جنگ سے پہلے کی بنیادوں پر کرے۔ اس پر اسرائیلی وزیراعظم نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ اگر یوں ہوا تو اس کا مطلب ہو گا کہ اسرائیل نے اپنی دفاعی صلاحیتوں پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔

بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر اوباما سے ملاقات کے بعد دہرایا کہ اگر آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے سے امریکی صدر کے نئے وژن کو قبول کر لیا جائے، تو اسرائیل کی دفاعی صلاحیت مفلوج ہو جائے گی۔ اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات میں نیتن یاہو نے کہا کہ التباسات کی بنیاد پر امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

Obama und Netanjahu Treffen Washington NO FLASH

امریکی صدر باراک اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو

نیتن یاہو نے کہا کہ وہ خطے میں قیام امن کے لیے سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم اس حوالے سے واشنگٹن حکومت کی تجاویز پر انہیں تحفظات ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اختلافات ’دوستوں کے مابین‘ ہی ہوتے ہیں۔ اوباما اور نیتن یاہو کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر نے فلسطینی سرحدوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں دہرائی۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے گفتگو کرنے کے علاوہ عرب ممالک میں حالیہ عوامی انقلابات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر بھی غور کیا کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال سے امریکہ اور اسرائیل کس طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف عرب لیگ کے سربراہ امر موسیٰ اور فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے حوالے سے پیش کردہ اپنے نئے وژن پر قائم رہیں اور اسرائیلی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کریں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل سمیت کئی اہم یورپی رہنماؤں نے بھی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک کے حوالے سے امریکی صدر باراک اوباما کی نئی پالیسی کا خیر مقدم کیا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM