1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

البانیہ نے مدرٹریسا کے باقیات واپس طلب کر لئے

البانیہ نے بھارت سے مدرٹریسا کے باقیات کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ مدرٹریسا البانوی نسل سے تھیں اور یہ مطالبہ 2010ء یعنی آئندہ سال مدر ٹریسا کی پیدائش کے ایک سو سال مکمل ہونے سے پہلے کیا گیا ہے۔-

default

مدر ٹریسا 26 اگست 1910ءکو مقدونیہ کے دارالحکومت سکوپیہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ تاہم ان کے آباؤاجداد نسلی طور پر البانوی باشندے تھے- البانیہ کے وزیر اعظم سالی بیریشا کے مطابق مدر ٹریسا کے باقیات کی واپسی کے لئے نئی دہلی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس سال کے آخر تک یہ معاملہ طے پا جائے گا-

دوسری جانب مدر ٹریسا کی قومی شناخت کے بارے میں البانیہ اور مقدونیہ کے مابین تنازعہ چل رہا ہے- 12 سال کی عمر سے ہی مدر ٹریسا کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ انہیں خدا کی طرف سے انسانیت کی خدمت کے لئے چن لیا گیا ہے-

Mutter Teresa

مدر ٹریسا مقدونیہ میں پیدا ہوئیں

18 برس کی عمر میں انہوں نے مقدونیہ میں اپنے والدین کے گھر کو خیر باد کہا اور بھارت میں قائم سسٹرز آف لوریٹو نامی آئرش راہباؤں کی جماعت میں شامل ہو گئیں۔ پہلے انہیں ڈبلن میں چند ماہ کی تربیت دی گئی، پھر انہیں 24 مئی 1931ء کو بطور راہبہ بھارت بھیج دیا گیا-1948ء تک مدر ٹریسا نے کولکتہ کے سینٹ میریز ہائی اسکول میں پڑھاتی رہیں۔ تاہم اس اسکول کی چار دیواری کے ارد گرد قائم جھونپڑیوں اور ان میں ناگفتہ بہ اور کسمپرسی میں زندگی بسر کرنے والے انسانوں کے حالات نے ان کو بے حد متاثر کیا-

1948ء میں انہیں مشن کے سینئر اہلکاروں کی طرف سے اجازت ملی کہ وہ کونونٹ سے نکل کر کولکتہ کے غربت زدہ انسانوں کی مدد کا کام شروع کر دیں- تب سے مدر ٹریسا نے اپنی زندگی، غربت اور گوناگوں بماریوں کے عذاب میں مبتلا بلکتے، سسکتے انسانوں کی خدمت میں وقف کر دی-1997ء میں مدرسہ ٹریسا کا انتقال کولکتہ میں ہی ہوا اور انہیں وہیں سپرد خاک کر دیا گیا- انہیں 2003ء میں کیتھولک مسیحیوں کے سابق روحانی پیشوا پوپ جان پال دوئم نے 'مبارکہ' قرار دیا تھا، جو ایک خصوصی مذہبی خطاب ہے۔ البانیہ کی حکومت اپنی اس اہم قومی شخصیت کے باقیات کی واپسی کا مطالبہ کر کہ البانیہ اور اس کے باشندوں کے لئے مدر ٹریسا کی اہمیت اجاگر کر رہی ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل