1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

البانیا: ایرانی ’مجاہدین خلق‘ کے جنگجوؤں کی نئی پناہ گاہ

جہاں یورپی یونین کے مختلف ممالک مہاجرین کو پناہ دینے کے معاملے پر باہم دست و گریباں ہیں، وہاں البانیا خاموشی سے ایرانی اپوزیشن ملیشیا تنظیم ’مجاہدین خلق‘ کے تقریباً تین ہزار سابق جنگجوؤں کو اپنے ہاں پناہ دے رہا ہے۔

Lager Iranische Volksmudschahedin im Irak ARCHIVBILD 2012

عراق میں سابق امریکی فوجی اڈے ’لبرٹی‘ کا ایک منظر، اسی لبرٹی کیمپ سے امریکا اب ’مجاہدین خلق‘ کے ہزاروں سابق عسکریت پسندوں کو البانیا منتقل کر رہا ہے

البانیا کے دارالحکومت تیرانا اور اُس کے بندرگاہی شہر دوریس کے درمیان کہیں کاشاری کے علاقے میں موٹر وے کے قریب ایک کئی منزلہ عمارت ایرانی اپوزیشن ملیشیا تنظیم ’مجاہدین خلق‘ کے سابق جنگجوؤں کا نیا مسکن ہے۔ اس کے اردگرد لوہے کی باڑ ہے جبکہ اس کا گیٹ بھاری دھات سے بنا ہوا ہے۔ یہیں ’مجاہدینِ خلق‘ کے کچھ ایسے سابق جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے عراق میں تھے اور جنہیں اب البانیا بتدریج اپنے ہاں لا کر پناہ دے رہا ہے۔

ڈوئچے ویلے کی خاتون رپورٹر آنی رُوچی نے اس موضوع پر ایک خاص رپورٹ مرتب کی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے خاص طور پر اس عمارت میں جا کر وہاں مقیم سابق جنگجوؤں سے بات چیت کی۔ وہاں اس رپورٹر کو جس کمرے میں لے جایا گیا، وہاں دیواروں پر ’مجاہدین خلق‘ کے قائد جوڑے مسعود اور مریم رجاوی کی تصاویر آویزاں تھیں۔ سادہ سے فرنیچر سے آراستہ اس کمرے میں اس ملیشیا کے ایک سرکردہ رہنما فرزین بہادر گردیزی (فرضی نام) نے اس رپورٹر کو بتایا کہ وہ ’مجاہدین خلق‘ کے بیس دیگر ارکان کے ہمراہ چار مہینے قبل عراق کے سابق امریکی فوجی اڈے ’لبرٹی‘ سے البانیا پہنچا۔ اُس نے کہا کہ اس سے پہلے وہ سب گزشتہ بیس برسوں سے عراق میں اشرف اور لبرٹی نامی دو کیمپوں میں رہ رہے تھے۔ اُس نے بتایا کہ وہ اُن لوگوں میں سے ہے، جو ان کیمپوں پر ایرانی حملوں میں زندہ بچ گئے۔

Bildergalerie Iran erste 10 Jahre Islamische Republik

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ روح اللہ خمینی کے ہمراہ بیٹھے مسعود رجاوی (دائیں) ’مجاہدین خلق‘ کے سربراہ تھے، تب اس گروپ نے خمینی کے ساتھ مل کر ایرانی شاہ کا تختہ الٹا تھا

فرزین بہادر گردیزی کے مطابق اُس نے یہ فرضی نام اس لیے اپنا رکھا ہے کہ اگر ایرانی خفیہ سروس کو البانیا میں اُن کے ٹھکانے کا پتہ چل گیا تو اس سے اُس کی، اُس کے دوستوں کی اور اُن کے بدستور عراق میں مقیم لواحقین کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ان سابق جنگجوؤں کی سب سے بڑی فکر یہی ہے کہ کہیں ایرانی خفیہ ادارے کے ہاتھ اُن تک نہ پہنچ جائیں۔ اسی لیے ڈی ڈبلیو کی رپورٹر ٹیم کو اس عمارت میں اندر یا باہر کہیں بھی تصاویر اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

امریکی، جنہوں نے 2012ء میں ’مجاہدین خلق‘ کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کر دیا تھا، ان ایرانی منحرفین کو براہِ راست عراق میں اپنے سابق فوجی اڈے سے البانیا پہنچا رہے ہیں۔

’مجاہدین خلق‘ اُن گروپوں میں سے ایک ہے، جنہوں نے ستّر کے عشرے میں آیت اللہ خمینی کے ساتھ مل کر ایرانی شاہ کا تختہ الٹا تھا لیکن پھر اس تنظیم کی تہران میں بننے والی نئی حکومت کے ساتھ بھی بن نہ سکی۔ ایرانی نژاد جرمن ماہر علی صدر زادہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اُس دور میں اس تنظیم پر متعدد دہشت گردانہ حملوں اور سیاسی مخالفین کے قتل کے الزامات لگے۔ پھر یہ تنظیم زیرِ زمین چلی گئی اور اَسّی کے عشرے میں اس نے ایران کے کٹر دشمن صدام حسین کے ملک عراق میں پناہ حاصل کر لی۔

ماہرین کی متفقہ رائے یہ ہے کہ ’مجاہدین خلق‘ نے بعد ازاں عراق میں فوجی مداخلت میں امریکا کا بھرپور ساتھ دیا اور مشرقِ وُسطیٰ میں دیگر کارروائیوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی امریکا کو ہر طرح کا تعاون فراہم کیا۔ اسی طرح ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں معلومات عام کرنے میں بھی اس تنظیم کا کردار بہت اہم رہا۔

NCRI Maryam Rajavi Massoud Rajavi NWRI.

عراق میں اشرف نامی کیمپ ’مجاہدین خلق‘ کے ارکان کا مسکن ہے، اس تصویر میں وہاں اس گروپ کے قائد جوڑے مسعود اور مریم رجاوی کی تصاویر آویزاں ہیں

2003ء میں عراق جنگ کے خاتمے کے بعد بغداد میں تشکیل پانے والی نئی حکومت نے انہیں مزید اپنے ہاں رکھنے سے انکار کر دیا۔ تب امریکا نے مختلف یورپی ممالک سے بات کی لیکن برطانیہ، فرانس، جرمنی، حتیٰ کہ رومانیا بھی ایران کے ساتھ اپنے تعلقات خراب ہونے کے ڈر سے انہیں پناہ دینے پر راضی نہ ہوا۔

دوسری طرف ’مجاہدین خلق‘ کے سابق جنگجوؤں کا موقف یہ تھا کہ وہ جہاں بھی جائیں گے، اکٹھے ہی جائیں گے۔ بالآخر یورپ کے غریب ترین ملک البانیا نے تقریباً تین ہزار جنگجوؤں کو اپنے ہاں پناہ دینے کے سسلے میں واشنگٹن حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا اور آج کل بتدریج ان سابق عسکریت پسندوں کو لا لا کر البانیا میں بسایا جا رہا ہے۔ اب تک ان کی تعداد 829 ہو چکی ہے لیکن جلد ہی یہ تعداد تین ہزار تک پہنچ جائے گی۔ البانیا میں ان ایرانیوں کو بسانے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کا ادارہ یُو این ایچ سی آر بھرپور تعاون کر رہا ہے۔

DW.COM