1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

البانيہ ميں مذاہب کے اچھوتے انداز

بلقان کا ملک البانيہ ايک طويل عرصے تک کميونسٹ آمريت کے زير حکومت رہا۔ اس دوران وہاں کسی قسم کی مذہبی آزادی نہيں تھی۔ لوگوں نے نت نئے راستے اختيار کر ليے، جن ميں مسلمان بھی شامل تھے۔

***Für mögliche Ergänzungen der Karte, wie z.B. andere Sprachen, zusätzliche Orte oder Markierungskreuz, wenden Sie sich bitte an infografik@dw-world.de (-2566), Außerhalb der Bürozeiten an bilder@dw-world.de (-2555).*** DW-Grafik: Per Sander 2011_03_10_Laender_Prio_A_B

البانيہ کا نقشہ

اب مذہبی آزادی کے بعد بھی اس ملک کے مذاہب کے انداز بہت اچھوتے نظر آتے ہيں، جو دوسرے ممالک ميں ديکھنے ميں نہيں آتے۔

اپريل کے ايک خوشگوار موسم والے دن ميں البانيہ ميں درجنوں مسلمان،کيتھولک اور کٹر عقيدے والے مسيحی ايک پہاڑی راستے پر چڑھتے نظر آتے ہيں جس پر سينٹ انٹونی چرچ واقع ہے۔ مختلف مذاہب پر يقين رکھنے والے ان تمام ہی افراد کے دل ميں کوئی نہ کوئی دعا، کوئی نہ کوئی خواہش ہے جسے وہ اپنے خالق کے سامنے پيش کرنے کے ليے يہاں آئے ہيں۔ قديم مسيحی پادری سينٹ انٹونی کے نام سے منسوب يہ چرچ اس حوالے سے بہت شہرت رکھتا ہے اور يہاں آنے والے،صحيح يا غلط، يہ سمجھتے ہيں کہ خالق کائنات يہاں اُن کے دل کی مراديں پوری کرنے کے لئے متوجہ ہوتا ہے۔

5. Fiona Kopali from Asim Vokshi school speaking for DW Author: Arben Muka /DW Correspondent in Albania Time: 24.02.2011 Place: Multimedia Center Ten/ Tirana / ALBANIA

البانيہ منں کميونسٹ دور کے بارے ميں ايک نمائش

اونچائی پر جانے والے اس پہاڑی راستے پر چڑھنے والوں ميں سے چند ايسے بھی ہيں، جو ننگے پير ہيں اور وہ ايسے رخنوں ميں اپنے پير رکھ رہے ہيں، جن کے بارے ميں يہ گمان کيا جاتا ہے کہ وہ پراسرار قوتوں کے حامل ہيں اور بيماريوں سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہيں۔ کچھ لوگ راہ پر پڑے ہوئے پانچ سفيد پتھر اکٹھے کر رہے ہيں اور روايتی طريقے سے اُن ميں سے ہر ايک پر کچھ پھونکنے کے بعد اُنہيں دوبارہ زمين پر ڈال رہے ہيں۔ ايک نوجوان راسخ العقيدہ مسيحی نے اپنا پيسوں کا بٹوہ ايک چٹان پر لگايا اور پھر اسے جيب ميں رکھ ليا۔ اُسے اس طرح خوشحال ہوجانے کی اميد ہے۔ اُس نے کہا: ’’ميں يہ دعا کرنے کے ليے آيا ہوں کہ اس سال ميری دعائيں قبول ہو جائيں۔‘‘

ايک، دو بچوں کی ماں يہ دعا کر رہی ہے کہ اس کا ازدواجی رشتہ محفوظ رہے۔ اس نے کہا: ’’ميرے شوہر اور ميرے درميان مسائل ہيں۔‘‘

ايک مسلمان نے کہا: ’’ميں خدا سے يہ دعا کرنے آيا ہوں کہ وہ اس سال مجھے ايک بيٹا دے دے‘‘ وہ البانوی دارالحکومت تيرانہ کے شمال ميں 50 کلوميٹر دور واقع لاک نامی شہر سے يہاں آيا ہے۔

چڑھائی پر اپنی سست رفتار پيش قدمی کے دوران يہ زائرين ايک غار پر سے بھی گذرتے ہيں، جس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ يہاں سينٹ انٹونی سوئے تھے۔ بعض لوگ يہاں اپنے بچوں يا بيمار اقرباء کے کپڑے چھوڑ جاتے ہيں۔

يہ زيارت ہر ہفتے کی جاتی ہے اور يہ البانيہ ميں سن 1945 سے سن 1990 تک قائم رہنے والی کميونسٹ آمريت کی جانب سے مذہب کو مکمل طور پر کچل دينے کے بے رحمانہ اقدامات کے باوجود مذہب کے زندہ رہ جانے کی علامت ہے۔ تشدد پسند بے دين حکومت نے البانيہ کو بيرونی دنيا سے بہت الگ تھلگ رکھا تھا اور اُس نے جبراً ہر قسم کے مذہبی طور طريقوں پر پابندی لگائے رکھی تھی۔ ليکن اس کے بعد اب يہاں عقيدے، اوہام پرستی، رنگ برنگ عوامی رسومات، ليکن اُس کے ساتھ ساتھ تحمل اور رواداری کا بھی دور دورہ نظر آتا ہے۔

Police cars are parked ahead of the anti-goverment opposition protest in capital Tirana Friday, Feb. 4, 2011. Albanian opposition parties are preparing to hold new rallies in four cities to demand the government's resignation for alleged corruption. Friday's planned marches come two weeks after three protesters were shot dead during clashes with security forces at an opposition demonstration in the capital, Tirana. Another 150 were injured. (Foto:Hektor Pustina/AP/dapd)

ايک حکومت مخالف مظاہرے کے دوران پوليس

البانيہ کی تقريباً 30 لاکھ کی آبادی ميں سے اکثريت مسلمان ہے، ليکن يہاں راسخ العقيدہ اور کيتھولک مسيحی برادرياں بھی ہيں۔ مختلف مذاہب کے درميان جو بات مشترک نظر آتی ہے وہ کسی معجزے کی اميد ہے جو زندگيوں کو بدل کر رکھ دے۔

ماہر سماجيات آرتان فُوگا نے کہا: ’’کميونسٹ آمريت ميں کسی بھی قسم کی مذہبی آزادی نہ ملنے کے بعد، مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں نے ايسے مقامات کا رخ کرنا شروع کرديا جنہيں وہ مقدس سمجھتے تھے۔ انہوں نے ايسی جگہوں کو بھی منتخب کيا، جہاں بھوت پريت کی پوجا ہوتی تھی يا جن کا تعلق الحاد کے دور سے تھا۔

اس کی ايک مثال يہ بھی ہے کہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں البانوی، ہر سال اگست ميں جمع ہو کر ملک کے جنوب ميں ٹُمورّی نامی پہاڑ پر سورج کی پرستش کی رسم کے ساتھ ساتھ ايک مسلم صوفی مسلک بيکتاشی کے اعزاز ميں بھی رسوم ادا کرتے ہيں۔

15 ويں صدی ميں جب البانيہ عثمانی سلطنت کے زير نگين آيا تھا تو اس وقت يہ ايک مسيحی ملک تھا۔ بعد ميں بہت سے البانويوں نے اسلام قبول کر ليا تھا۔ آج اس ملک ميں مذہبی صورتحال بہت مبہم سی ہے اور بہت سے لوگ يہ جانتے ہی نہيں کہ اُن کا تعلق کون سے مذہب سے ہے۔ ايک زمانے ميں يہ اوہام پرستی بھی عام تھی کہ عيسائی بھی مسلمان خانقاہوں يا مساجد کے ارد گرد سے’’مقدس يا پاک مٹی‘‘ اکٹھی کيا کرتے تھے۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: امجد علی

DW.COM