1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

الاسکا: گاؤں کا میئر بیس سال کی عمر میں انتقال کر گیا

تقریبا بیس برس بعد الاسکا کے ایک گاؤں کا منفرد اور اعزازی میئر وفات پا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سٹبز نامی بِلا گزشتہ جمعے کے دن فوت ہو گیا تھا۔ گاؤں میں سوگ کی سی کیفیت ہے اور بِلے کا جانشین ڈھونڈا جا رہا ہے۔

الاسکا کے تالکیتنا نامی گاؤں کی آبادی نو سو افراد پر مشتمل ہے اور وفات پا جانے والے بِلے کو وہاں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ تقریبا بیس برس پہلے تالکیتنا کے اس گاؤں میں انتخاب کروائے گئے تھے اور سٹبز کو گاؤں کا اعزازی میئر چُن لیا گیا تھا۔ اس وقت بِلے کو عزت کے طور پر سٹبز کا نام دیا گیا تھا۔ الاسکا کے اس گاؤں میں کوئی بھی انسان میئر نہیں ہے۔

اس بلے کی مالکہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ جمعے کے روز میئر بِلا بیس برس کی عمر میں انتقال کر گیا ہے۔ جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’وہ رات کو اچھے طریقے سے سویا تھا۔ صبح اس کو جگانے کی کوشش کی تو وہ پہلے ہی جنت میں جا چکا تھا۔‘‘

بلیوں کے بارے میں یہ ویسے ہی مشہور ہے کہ ان کی کئی زندگیاں ہوتی ہیں۔ وفات پا جانے والے میئر بِلے پر چار برس پہلے ایک کتے نے حملہ کر دیا تھا لیکن وہ اس میں محفوظ رہا تھا۔ اسی طرح گزشتہ برس بھی اس کی موت کی افواہیں گردش کرتی رہی تھیں۔ اس بِلے کی مالک فیملی نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’اس نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک جدوجہد جاری رکھی۔‘‘

الاسکا کے ایک مقامی’ کے ٹی وی اے‘ ٹیلی وژن  کے مطابق بِلا اپنی وفات سے پہلے جلدی تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا تھا اور زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزارتا تھا۔

ابھی تک اس گاؤں میں بلے میئر کی وفات پر سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ اس کا ممکنہ جانشین بھی تلاش کر لیا گیا ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق ان کا نیا میئر بھی ایک بِلا ہی ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق ڈینالی نامی ایک بِلے کو نیا میئر بنانے کے لیے مشاورت جاری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تالکیتنا میں بہت جلد انتخابات ہونے والے ہیں۔

اس طرح کے غیر معمولی میئر کئی دوسرے علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ برطانوی اخبار گارجئین کے مطابق سربیا کے ایک گاؤں برنول میں میں لوگ مقامی سیاستدانوں سے اس قدر تنگ آئے کہ انہوں نے ایک بِلی کو منتخب کر لیا تھا۔ اسی طرح امریکا کے ایک چھوٹے سے علاقے ڈورسیٹ میں میئر کا عہدہ بچوں کے حوالے کیا جاتا ہے۔

DW.COM