1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اقوام متحدہ ہزاریہ اہداف، پاکستان کی صورت حال

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ہزاریہ اہداف میں سے ایک ہیومن ڈیویلپمنٹ یا انسانی ترقی بھی تھا اس حوالے سے سے باریکی سے دیکھا جائے تو اس حوالے سے پیش قدمی انتہائی سست روی کا شکار نظر آتی ہے۔

default

عالمی ادارے کا نشان

موجودہ صدی کے آغاز پر اقوام متحدہ کےاہم اجلاس میلینیئم سمٹ میں 189 ملکوں کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلانیہ جاری کیا تھا جسےبنیاد بناتے ہوئے 2015 تک دنیا کو آٹھ بڑے مسائل سے نجات دلانے کے لئے اہداف مقرر کئے گئےتھے۔ ان اہداف کواقوام متحدہ کے ہزاریہ ترقیاتی اہداف یا میلینیئم ڈیویلپمنٹ گولز کا نام دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کئے گئے میلینیئم ڈیویلپمنٹ گولز کی روشنی میں پاکستان میں بھی ان مسائل پر قابو پانے کے لئے مختلف اہداف مقرر کئے گئے تھے۔ جن کے حصول کے لئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سےپاکستان کو ترقیاتی فنڈز بھی جاری کئے گئے۔ مگر مقرر کردہ آدھے سے زائد وقت گزرجانے کے باوجود پاکستان میں ان اہداف کے حصول کے لئے کی جانے والے اقدامات کس قدر درست میں جارہے ہیں اور سال 2015 ان کے حصول میں کامیابی کے کس قدر امکانات ہیں؟

اسکے علاوہ ہزاریہ ترقیاتی اہداف یعنی ملینیئم ڈیولپمنٹ گول جوپاکستان کے لئے ترتیب دیئے گئے تھے کیا وہ پورے ہو سکے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہمیشہ نفی میں آتا ہے یوں تو ملینیئم ڈیویلپمنٹ گولز میں صحت، تعلیم، غربت کے خاتمے سمیت کئی اہداف مقرر کئے گئے تھے لیکن یہاں بات کریں گے صرف اقتصادی اہداف کی۔

Pakistan Erdbeben

پاکستان میں غربت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

ملک کے ممتاز ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی کے خیال میں ملینیئم ڈیولپمنٹ اہداف حاصل نہیں ہو سکے ہیں اور وہ اس بارے میں بہت پرامید بھی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک ایک بحران کے بعد دوسرے بحران میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر حکومت کی ترجیحات میں ہیومن ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے مقاصد ایجنڈے پر نہیں ہیں قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ ریاست کی ترجیحات کچھ اور ہیں بین الاقوامی معاہدوں پر صرف دستخط کر لئے جاتے ہیں۔ بنیادی وسائل کی تقسیم میں خصوصاً نیشنل سیکورٹی کے معاملات زیادہ حاوی ہیں۔ انسانی ترقی کے مقاصد ترجیحات میں نظر نہیں آتے جب قیصر بنگالی سے پوچھا گیا کہ کیا اہداف کبھی پورے ہو سکیں گے تو ان کا جواب تھا وہ یہ بات ذمہ داری سے کہہ رہے ہیں کہ 5 سال میں ناخواندگی کی شرح آدھی سے بھی کم کی جاسکتی ہے جبکہ 20 سال میں غربت بھی مکمل طور پر ختم کی جاسکتی ہے۔ قیصر بنگالی ملینیئم گول کے اہداف حاصل نہ ہونے کا ذمہ دار ریاست کو قرار دیتے ہیں۔

لیکن دوسری جانب ایک اور اقتصادی ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے ملینیئم ڈیولپمنٹ اہداف پورے کرنے کے دعوؤں کو حکومتوں کی جانب سے محض سیاسی نعرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غربت کو نصف کرنے کا سب سے اہم ہدف بھی ابھی حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ اور 1999ء کے مقابلے میں غربت 7 سے 8 فیصد بڑھی ہے ان کا کہنا ہے کہ بنیادی بات یہ ہے کہ حکومت تعلیم صحت اور انسانی وسائل کی ترقی کے لئے مناسب رقم مختص نہیں کررہی۔ ڈاکٹر شاہد نے مزید کہا کہ پاکستان میں تعلیم اور صحت کے لئے افریقہ کے غریب ممالک سے بھی کم رقم خرچ کر رہی ہے کیونکہ ہمارے پاس ٹیکس اورGDP کا تناسب کم ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں شاہانہ اخراجات، دفاع، سود اور قرضوں کی ادائیگی پر بہت زیادہ اخراجات ہورہے ہیں۔ مزید یہ کہ کرپشن کے حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ہم ان کے انڈیکس میں بہت اوپر ہیں پھر مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔ ڈاکٹر شاہد کے مطابق پاکستان میں افراط زر کی شرح 23 فیصد ہے جبکہ خطہ کے دوسرے ممالک جیسے بھارت میں 9 فیصد، چین میں 4.6 فیصد ہے۔

BdT Pakistan Lebensmittelausgabe in Lahore

ملکی آبادی کی ایک بڑی تعداد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے

ڈاکٹر شاہد کا مؤقف ہے کہ ملینیئم گول حاصل نہ ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ آئی ایم ایف کا پروگرام ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ کوئی اقتصادی بحالی کا پروگرام غربت کے خاتمہ کے بغیر ممکن نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے 200 ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ کی مگر عوام کو کچھ نہیں ملا۔ لہذا صحت، تعلیم اور غربت کے خاتمہ کے حوالے سے صورت حال مایوس کن ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ اہداف کبھی حاصل ہو سکیں گے تو ڈاکٹر شاہد حسن کا جواب تھا کہ اس کے لئے حکومت کو اپنی ٹیکس پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینا ہو گا۔ خطہ کے ممالک میں ٹیکس کی وصولی اورGDP کا تناسب 15 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں یہ صرف 10 فیصد ہے اس طرح 5 فیصد کم وصول ہونے کا مطلب ہے کہ 500 ارب روپے سالانہ کم وصول ہورہے ہیں۔ اگر یہ صورت حال بہتر ہو گی تو عوام کی فلاح و بہبودکے لئے عملی

اقدامات ہو سکیں گے۔ڈاکٹر شاہد کے مطابق غیر ترقیاتی اخراجات کو بھی کم کرنا ہو گا۔ ملینیئم اہداف کی تکمیل محض سیاسی نعرہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ مقرر اہداف پورے کرنا سماجی ذمہ داری ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان سمیت ہر ملک کا ہدف دہشت گردی کے خاتمہ پر مرکوز ہے جس کی وجہ سے ملینیئم ڈیولپمنٹ گول کے اہداف پس منظر میں چلے گئے ہیں۔