1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ گولڈ سٹون رپورٹ کو کالعدم قرار دے، نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سن 2008ء میں غزہ پر کیے گئے اسرائیلی حملے سے متعلق جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے تفتیش کار گولڈ سٹون کی رپورٹ کو کالعدم قرار دے۔

default

نیتن یاہو کی جانب سے یہ مطالبہ گولڈ سٹون کے اس حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں گولڈ سٹون نے کہا تھا کہ جو وہ اب جانتے ہیں، اس کا علم انہیں پہلے ہوتا، تو یہ رپورٹ بالکل مختلف ہوتی۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں گولڈ سٹون کے شائع ہونے والے ایک انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اب اقوام متحدہ کو غزہ جنگ سے متعلق یہ رپورٹ ’تاریخ کے کُوڑے کی ٹوکری‘ میں پھینک دینی چاہیے۔ ہفتے کے روز ایک اسرائیلی ٹی وی پر اپنے اس بیان میں نیتن یاہو کا کہنا تھا، ’گولڈ سٹون نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے، جو ہم اب تک کہتے آئے ہیں۔ ہمارے سپاہیوں اور فوج نے مسلمہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق کارروائی کی تھی۔‘

گولڈ سٹون نے غزہ پر اسرائیلی حملے سے متعلق اپنی تفتیشی رپورٹ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں اسرائیل اور حماس دونوں پر ممکنہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ ان الزامات کو اسرائیل نے مسترد کر دیا تھا۔

Richard Goldstone

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے گولڈ سٹون

نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر اس رپورٹ میں عائد کیے گئے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا، ’ہم اس رپورٹ کو فوری طور پر کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ غزہ سے اسرائیلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی جانب سے پے در پے راکٹ داغے جانے کے بعد، دسمبر سن 2008ء میں اسرائیلی فوج غزہ میں داخل ہو گئی تھی۔ اس کارروائی میں تیرہ سو سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے کبھی جان بوجھ کر عام شہریوں کو ہدف نہیں بنایا تاہم اس رپورٹ کے بعد سرکاری طور پر ہر طرح سے تفتیش اور جانچ پڑتال کی گئی۔لیکن اس رپورٹ کے جواب میں حماس کی طرف سے کسی طرح کی کوئی تفتیش سامنے نہیں آئی۔

نیتن یاہو کے مطابق اس رپورٹ کی منظوری میں انسانی حقوق کی کونسل میں معمر قذافی بھی شامل تھے اور اب یہ بات واضح ہے کہ وہ خود اپنے ہی شہریوں کے خلاف طاقت کا کس حد تک استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس