1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کی تلاش

اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل بان کی مون کے عہدے کی مدت اگلے برس کے اختتام پر مکمل ہو جائے گی۔ اُن کی جگہ نئے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے ابتدائی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے نئے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے نے سیکرٹری جنرل کے منصب کے لیے پہلی مرتبہ درخواستیں طلب کی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ نئے سیکرٹری جنرل کے لیے کھلے عام ممکنہ امیدواروں سے درخواستیں پیش کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اِس سے قبل سلامتی کونسل کے مستقل اراکان روس، امریکا، برطانیہ، فرانس اور چین سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے بند دروازے میں میٹنگز کیا کرتے تھے۔

رواں برس جنرل اسمبلی نے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے طریقہ‘ کار پر چھائی ہوئی خفیہ سفارت کاری کے بعض پہلووں سے پردہ ہٹا دیا تھا۔ اِس منظور شدہ قرارداد کی روشنی میں امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں اور اُن پر واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنی درخواستوں کے ساتھ اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور بین الاقوامی امور میں کی جانے والی سفارت کاری کی جملہ تفصیلات بھی نتھی کریں۔ اِس کے علاوہ وہ سیکرٹری جنرل کے منصب کے حوالے سے اپنے خیالات بھی لکھ کر روانہ کریں کہ یہ عہدہ دنیا بھر میں کونسی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ کئی غیر سرکاری تنظیموں نے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے جاری ہونے والے خط کا خیر مقدم کیا ہے کہ اِس سے انتخابی عمل میں شفافیت پیدا ہو گی۔

New York Hauptquartier der Vereinten Nationen

امریکی شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کا صدر دفتر واقع ہے

سلامتی کونسل کے مستقل رکن برطانیہ کے سفیر میتھیو رائی کرافٹ کے مطابق سیکرٹری جنرل کے امیدوار بننے کا خط تمام 193 رکن ریاستوں کو روانہ کیا گیا ہے۔ روس کے ساتھ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی رابطہ کاری کے بعد یہ خط سلامتی کونسل کے ایک اور مستقل رکن امریکا کی مندوب سمانتھا پاور کے دستخط سے جاری کیا گیا ہے۔ امریکا سکیورٹی کونسل کا رواں مہینے کا صدر ملک بھی ہے۔ نئے سیکرٹری جنرل کے لیے جاری ہونے والے خط پر جنرل اسمبلی کے صدر موگینز لیکی ٹوفٹ کے بھی دستخط موجود ہیں۔ اِس خط میں سیکرٹری جنرل کے منصب کے لیے خواتین کو بھی دعوت دی گئی ہے کہ وہ بھی امیدوار بن سکتی ہیں۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں اقوام متحدہ کی اگلی سربراہ صنفِ نازک ہو سکتی ہے۔

روس کا مؤقف ہے کہ اگلے سیکرٹری جنرل اُس علاقے سے ہونا چاہیے جہاں سے ابھی تک کوئی بھی اِس منصب پر فائز نہیں ہو سکا ہے۔ اِس سے مراد روس اور دوسرے مشرقی یورپی ممالک لیے جا رہے ہیں۔ نئے اصولوں کے تحت سلامتی کونسل ایک نام کو جنرل اسمبلی میں پیش کرے گا اور اُسی کی توثیق کی جائے گی۔ جن امیدواروں کی جانب لوگ دیکھ رہے ہیں، اُن میں یونیسکو کی بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی خاتون سربراہ ایرینا بوکوفا، یورپی یونین کی بجٹ کمیشنر کرسٹیلینا گیورگیوفا اور کروشیا کی وزیر خارجہ ویسنا پوسِچ نمایاں ہیں۔ گیورگیوفا بھی بلغاریہ سے تعلق رکھتی ہیں۔