1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کے ماہرین ایران جا سکتے ہیں، آئی اے ای اے

اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کی ایجنسی نے کہا ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے لیے ایران کا دورہ کر سکتی ہے۔

default

بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی IAEA کی طرف سے بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی طرف سے دعوت دیے جانے کے بعد ایک خصوصی ٹیم ایران جا سکتی ہے۔ ادارے کی خاتون ترجمان گِل ٹیوڈر نے کہا، ’ہم ایران کے لیے ایک ٹیم روانہ کرنے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں‘۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

منگل کو ایرانی حکام نے کہا تھاکہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی برداری کے خدشات اور تحفظات دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تہران حکومت کی طرف سے اس پیشکش کے ایک دن بعد ہی بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی نے اس بارے میں اپنا ردعمل ظاہر کر دیا۔

تہران حکومت کی طرف سے اس کے جوہری پروگرام سے متعلق اس نئی لچک کا مظاہرہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب اسے عالمی برادری کی طرف سےسخت ترین پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Internationale Atomenergie-Organisation IAEA Generaldirektor Yukiya Amano

آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیو امانو

مغربی ممالک کے خدشات ہیں کہ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔ ان خدشات کو ایران ہمیشہ ہی مسترد کرتا آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن اور سول مقاصد کے لیے ہے۔

آئی اے ای اے کے اعلیٰ اہلکاروں کی طرف سے ماضی میں کیے گئے ایران کے دوروں سے کوئی خاص نتائج برآمد نہیں ہو سکے ہیں۔ اس ایجنسی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا، ’ایران کی اس نئی دعوت کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے مثبت اقدامات اٹھاتا ہے، تو اسے خوش آئند قرار دیا جائے گا، ’ہم اسی کوششں میں ہیں کہ یہ تنازعہ حل کر لیا جائے‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایران اس بارے میں مکمل تعاون کرنے سے گریز کرتا رہا ہے۔

دوسری طرف آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیو امانو نے واضح کیا ہے کہ اس ایجنسی کےماہرین کی طرف سے ایران کے نئے دورے کے دوران ان تمام تحفظات پر گفتگو لازمی طور پر ہونی چاہیے، جو عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس