1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں کے سربراہ ایوو ڈی بوائر مستعفی

اقوام متحدہ کے اہم ترین عہدیدار ایوو ڈی بوائر نے نے گزشتہ روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اپنے بیان میں ڈی بوئیر نے کہا ہے کہ اکثر ممالک طے شدہ وقت کے دوران متفقہ طور پر کوپن ہیگن معاہدے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

default

تاہم ڈی بوائر نے اس موقع پر موسمیاتی تبدیلیوں پر اثر انداز ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لئے اپنی طرف سے کی جانے والی کوششوں کا دفاع کیا۔ 55 سالہ ڈی بوئیر نےاس بات کی تردید کی کہ ان کے فیصلے کے پیچھے کسی قسم کا سیاسی دباؤ ہے۔

ڈی بوائر نے ستمبر 2006ء میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ایگزیکٹیو سیکرٹری کے طور پر اپنا عہدہ سنھبالا تھا اور انہوں نے اس حوالے سے ایک عالمی پالیسی کی تشکیل کے لئے چار برس تک انتھک کوشش کی۔ ڈی بوائر کا استعفیٰ یکم جولائی سے مؤثر ہوگا۔

UN Klimasekretär Yvo de Boer

ڈی بوائر نے ستمبر 2006ء میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ایگزیکٹیو سیکرٹری کے طور پر اپنا عہدہ سنھبالا تھا

ڈی بوائر کے استعفیٰ کا یہ اعلان عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کوپن ہیگن میں ہونے والی عالمی کانفرنس کے محض دو ماہ سامنے آیا ہے۔ اس کانفرنس سے قبل ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے قابل عمل حل تک پہنچنے کے لئے دو برس تک کوششیں کی گئی تھیں، لہذا تمام دنیا کو امید تھی کہ کیوٹو پروٹول کی مدت ختم ہونے کے بعد گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے لئے کوئی متفقہ معاہدہ طے پاجائے گا۔ مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا جو تحفظ ماحولیات کے لئے کام کرنے والی دیگر تنظیموں کے علاوہ ڈی بوائر کے لئے بھی انتہائی تکلیف دہ تھا۔

برطانیہ میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار انوائرمنٹ اینڈ ڈیویلپمنٹ IIED کے موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق پروگرام کے سربراہ سلیم الحق کا کہنا ہے کہ ایوو ڈی بوائر کے استعفیٰ کی وجہ شاید کوپن ہیگن کانفرنس کی ناکامی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مایوسی ہی ہے۔ سلیم الحق کے مطابق یہ ناکامی اقوام متحدہ کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پالیسی سازی کی کوششوں کے لئے دھچکے سے کم نہیں ہے۔

موجودہ عہدہ چھوڑنے کے بعد ڈی بوائر معروف مشاورتی گروپ KPMG میں بطور گلوبل ایڈوائزر برائے تحفظ ماحول کام کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف یونیورسٹیوں کے لئے بھی خدمات انجام دیں گے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عاطف بلوچ