1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اقوام متحدہ کے ذریعے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں، اسرائیلی نائب وزیر اعظم

اسرائیلی نائب وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ سے منظوری کے لیے فلسطینی اقدامات ایسی دو دھاری تلوار کی مانند ہیں، جس سے نہ تو ایک آزاد فلسطینی ریاست وجود میں آسکتی ہے اور نہ ہی یہ تنازعہ حل ہو سکتا ہے۔

default

نائب اسرائیلی وزیراعظم دان میریدور

خبررساں ادارے اے ایف پی کو انٹر ویو دیتے ہوئے اسرائیلی نائب وزیر اعظم Dan Merido نے کہا ہے کہ امن مذاکرات کو نظر انداز کرنے کی فلسطینی حکمت عملی سے کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو گا بلکہ اس سے موجودہ صورتحال میں مزید ابتری پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔

دان میریدور کے بقول فلسطینی رہنماؤں کی کوشش ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے بغیر اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے ایک آزاد ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر لیں، لیکن زمینی حقائق کے مطابق یہ ممکن نہیں ہے۔

Abbas / Palästinenser / PLO

فلسطینی علاقوں کے صدر محمود عباس

اسرائیل کے متنازعہ علاقوں میں یہودی آباد کاری کو نہ روکنے کے بعد فلسطینی رہنماؤں نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ معطل کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے اسرائیل کے علاوہ عالمی سطح پر سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ عالمی برداری کی کوشش ہے کہ تعطل کے شکار یہ مذاکرات بحال ہو جائیں، لیکن فلسطینی رہنماؤں ایسا نہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ذریعے ایک ایسی قرارداد کی منظوری چاہتے ہیں، جس سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے۔

فلسطینی رہنماؤں نے 1988ء میں پہلی مرتبہ آزادی کا اعلان کیا تھا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے بقول اب تک کل 130 ممالک نے 1967ء کی سرحدوں کے مطابق فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ فلسطین کے چیف مذاکرت کار نے بتایا ہے کہ ستمبر میں سلامتی کونسل کے مستقل پانچ اراکین میں سے چار ممالک کے علاوہ دیگر کئی ممالک بھی آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں آواز بلند کریں گے۔

نائب اسرائیلی وزیراعظم دان میریدور کے مطابق اب دوبارہ وہی ہو گا جو رواں برس فروری میں منعقد ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ہوا تھا، یعنی امریکہ اس نئی قرارداد کو بھی ویٹو کردے گا۔ فروری میں سلامتی کونسل کے کل پندرہ میں سے چودہ رکن ممالک نے یہودی آبادی کاری کے خلاف ووٹ دیا تھا تاہم امریکہ نے اس پر ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے نامنظور کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں سلامتی کونسل اس حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کے قابل نہ ہو سکی تھی۔

Neue israelische Siedungen in Westjordanland

متنازعہ علاقوں میں یہودی آباد کاری امن مذاکرات کی راہ میں حائل ہے

دان میریدور کہتے ہیں کہ ایسے کسی نئے موشن سے عالمی سطح پر اسرائیل کے اکیلا ہونے کے امکانات تو ہو سکتے ہیں لیکن اس سے فلسطینی رہنماؤں کے خواب ہرگز پورے نہ ہو سکیں گے،’ ہمیں مل بیٹھ کر سرحدی تنازعات کے علاوہ دیگر مسائل کا حل تلاش کرنا ہو گا اور اگر ہم یوں نہیں کرتے تو مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ بگڑ جائے گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس