1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کے دستوں نے شہریوں پر فائرنگ کی، باگبو

آئیوری کوسٹ کے متنازعہ صدر لاراں باگبو نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں ملک میں تعینات اقوام متحدہ کے امن فوجی دستوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے شہریوں پر فائرنگ کی اور اب انہیں ملک سے نکلنا ہو گا۔

default

لاراں باگبو

سرکاری ٹی وی چینل RTI پر اپنے بیان میں لاراں باگبو نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن فوجیوں نے شہریوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔ اس موقع پر ٹی وی چینل پر عابی جان کے فوجی ہسپتال میں داخل دو زخمیوں کو بھی دکھایا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو پیش آنے والے ایک واقعہ میں مشتعل ہجوم اور اقوام متحدہ کے دستوں کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی تھی، تاہم آئیوری کوسٹ میں اقوام متحدہ کے امن فوجی دستوں ONUCI نے اس واقعے میں اپنے فوجیوں کی جانب سے فائرنگ کے کسی بھی واقعے کی تردید کی تھی۔

آئیوری کوسٹ میں سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جانے والے متنازعہ صدر کی زیر سرپرستی چلنے والے اس ٹی وی چینل پر کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے امن فوجیوں نے ہجوم پر براہ راست فائرنگ کی اور اس سے متعدد شہری شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کئے گئے۔

باگبو نے اپنے بیان میں کہا، ’اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کا کام یہ نہیں کہ وہ عام شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنائیں۔ ان کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی طرح کا جنگی کردار ادا کریں۔ ان کا کام شہریوں کی حفاظت ہے مگر یہ واقعہ ہوا اور اب انہیں مزید ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ شہریوں پر فائرنگ کا یہ واقعہ غیر معمولی ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے امن فوجی دستوں کو ملک چھوڑنے کے لئے کہہ دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے امن فوجیوں کی معاونت کرنے والے فرانس کے 900 فوجیوں کو بھی ملک چھوڑنے کے لئے کہا۔

UN Soldaten Elfenbeinküste Blauhelme

آئیوری کوسٹ میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج کے ساتھ فرانسیسی فوجی بھی شامل ہیں

واضح رہے کہ آئیوری کوسٹ میں گزشتہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد عالمی برادری نے صدر باگبو کے حریف السان وتارا کو صدر تسلیم کرلیا تھا تاہم باگبو نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے عالمی برادری کے دباؤ کے باوجود عہدہ صدارت چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

دریں اثناء یورپی یونین نے لاراں باگبو کے حامی مزید 17 افراد کے یورپی یونین میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس طرح یورپی ممالک کے لئے باگبو کے حامی افراد کے سفر پر پابندی کا سامنا کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد اب 78 ہو گئی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر/ خبررساں ادارے

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس