1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نئے سربراہ آخم شٹائنر

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے جرمنی کے آخم شٹائنر کو اس عالمی ادارے کے ترقیاتی پروگرام کا نیا سربراہ نامزد کر دیا ہے۔ آخم شٹائنر بین الاقوامی سطح پر انتظامی اور ترقیاتی امور کا وسیع تر تجربہ رکھتے ہیں۔

Pk Exekutivdirektor des UN - Umweltprogramms (picture-alliance/dpa)

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے سربراہ کے طور پر آخم شٹائنر کا عہدہ عامی ادارے کے انڈر سیکرٹری جنرل کا تھا

نیو یارک سے جمعرات تیرہ اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کا نیا منتظم نامزد کیے جانے والے شٹائنر اس سے قبل عالمی ادارے کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ماحولیاتی امور کے ایک ماہر کے طور پر وہ عالمی ماحولیاتی پروگرام کے دائرہ کار کے اندر افریقی ملک کینیا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

27.02.2010 DW-TV Journal Interview Helen Clark

نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک

سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کی طرف سے منگل گیارہ اپریل کو جاری کردہ ایک خط کی تفصیلات کے مطابق شٹائنر کو یو این ڈی پی کے نئے منتظم کے طور پر ہیلن کلارک کا جانشین مقرر کیا گیا ہے۔ ہیلن کلارک نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیں، جو 2009ء میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی سربراہ بنائی گئی تھیں۔

یو این ڈی پی اقوام متحدہ کا ایک ایسا بڑا ذیلی ادارہ ہے، جس کا صدر دفتر امریکی شہر نیو یارک میں ہے اور جس کے دنیا بھر میں منصوبوں کے بڑے مقاصد عالمی سطح پر غربت میں کمی لانا، سماجی ترقی میں اضافہ کرنا اور کسی بھی معاشرے میں خواتین کی عوامی زندگی میں زیادہ فعال اور بااختیار شرکت کو یقینی بنانا ہے۔

Ségolène Royal (Getty Images)

فرانسیسی وزیر ماحولیات سیگولین رویال بھی اس عہدے کے لیے امیدوار تھیں

اے ایف پی کے مطابق اسی عہدے کے لیے ایک اور امیدوار فرانسیسی خاتون وزیر ماحولیات سیگولین رویال تھیں، جنہوں نے آخم شٹائنر کی نامزدگی پر حیرانی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوٹیرش نے وعدہ کیا تھا کہ یہ عہدہ آئندہ بھی کسی خاتون ہی کو دیا جائے گا۔

اس فرانسیسی خاتون وزیر نے دعویٰ کیا کہ جرمنی نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے لیے مالی وسائل فراہم  کرنے والے ایک بڑے ملک کے طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے شٹائنر کی نامزدگی کو ممکن بنوایا۔

سیگولین رویال نے فرانسیسی ٹیلی وژن کو بتایا، ’’مجھے افسوس ہوا ہے۔ یہ نامزدگی سیکرٹری جنرل کے اس بیان سے مطابقت نہیں رکھتی، جو اس حوالے سے خود انہوں نے ہی دیا تھا۔ لیکن شاید زندگی اسی کو کہتے ہیں۔‘‘

DW.COM