1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اقوام متحدہ کی مہاجرت سے متعلق ایجنسی، اطالوی سفارت کار سربراہ مقرر

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اٹلی سے تعلق رکھنے والے سفارت کار فلیپو گرانڈی کو اقوام متحدہ کی مہاجرت سے متعلق ایجنسی کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

اس عہدے میں ڈنمارک کے سابق وزیراعظم تھورننگ شمٹ بھی دلچسپی رکھتے تھے۔

گرانڈی کو ایک ایسے وقت پر اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین (UNHCR) کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جب دنیا دوسری عالمی جنگ کے بعد سے مہاجرین کے شدید ترین بحران کا شکار ہے۔ وہ اقوام متحدہ ہی میں مختلف سینیئر عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ گرانڈی یو این ہائی کمشنر فار ریفیوجیز UNHCR میں بھی کئی برس تک کام کر چکے ہیں اور اب وہ اسی ایجنسی کی سربراہی کریں گے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وہ 2010ء سے 2014ء تک فلسطینی مہاجرین کی بہبود کی ایجنسی (UNRWA) کے سربراہ رہے۔

اقوام متحدہ کے پریس آفس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق فلیپو گرانڈی انتونیو گوتیرس سے اس عہدے کا چارج لیں گے۔ پرتگال سے تعلق رکھنے والے گوتیرس اگلے ماہ کے آخر میں اپنی مدت مکمل کر لیں گے۔

گرانڈی کی تعیناتی کی توثیق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے کی جانا ہے۔ تاہم سفارت کاروں کے بقول 193 رکنی جنرل اسمبلی میں اس بات کے امکانات کم ہی ہیں کہ ان کی تعیناتی کی مخالفت کی جائے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اس عہدے کے لیے دو دیگر اہم ترین امیدواروں میں جیسمین وِٹبریڈ اور آخم اسٹائینر بھی تھے۔ خیال رہے کہ برطانوی نژاد سوئس جیسمین وِٹبریڈ سیو دی چلڈرن کی سربراہ ہیں جبکہ جرمن نواز برازیلی آخم اسٹائینر اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے سربراہ ہیں۔

UNHCR توقع کر رہی ہے کہ رواں موسم سرما میں ہر روز یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد پانچ ہزار تک رہے گی

UNHCR توقع کر رہی ہے کہ رواں موسم سرما میں ہر روز یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد پانچ ہزار تک رہے گی

روئٹرز کے مطابق گرانڈی کی تعیناتی کا یہ اعلان تھورننگ شمِٹ کے لیے مایوسی کا سبب بنا ہو گا کیونکہ وہ چار برس تک ڈنمارک کے وزیراعظم رہنے کے بعد رواں برس جون میں اس عہدے سے الگ ہوئے تھے اور وہ اس وقت سے UNHCR کی سربراہی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اقوام متحدہ کے سفارت کاروں اور حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ بان کی مون نے شمٹ کو اس عہدے پر تعینات نہ کرنے کا فیصلہ حال ہی میں کیا ہے اور اس کی وجہ شمِٹ کی طرف سے بطور وزیراعظم ڈنمارک میں تارکین وطن کے حوالے سے یورپ کی سخت ترین پالیسیاں وضع کرنے میں مدد کرنا تھا۔ ان میں سے بعض پالیسیوں پر UNHCR کی طرف سے تنقید بھی کی گئی تھی۔

UNHCR توقع کر رہی ہے کہ رواں موسم سرما میں ہر روز یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد پانچ ہزار تک رہے گی۔ ان میں سے زیادہ تر تعداد ایسے مہاجرین کی ہے جو شامی خانہ جنگی کے باعث یورپ کا رُخ کر رہے ہیں لیکن اس کے علاوہ عراق اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی پناہ کے لیے یورپ پہنچ رہے ہیں۔