1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی کےمذاکرات کا نیا دور

جرمن شہر بون میں ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں تازہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ تھائی لینڈ کےدارالحکومت بینکاک میں مارچ اپریل میں ہونےوالے مذاکرات کے بعد بون مذاکرات اُن کا تسلسل قرار دیئے جا رہےہیں-

default

گرم ہوتے ماحول کے باعث یورپی ملک آسٹریا میں پگھلتا گلیشئر

جرمنی کے شہر بون میں ماہ مئی میں دو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی بین الاقوامی کانفرنسوں کے بعد اِس ماہ جون میں ماحول سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے۔

دو جون سے شروع ہونے والے یہ مذاکرات تیرہ جون تک جاری رہیں گے۔ اِن میں چو بیس سو سے زائد مندوبین شریک ہیں جن کا تعلُق ایک سو بہتر ملکوں کے علاوہ صنعتی، تجارتی، ماحولیاتی تحقیق اداروں سے ہے۔ دو ہفتوں پر محیط اِن مذاکرات کی میزبانی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ UNFCCC کر رہا ہے۔

بون ڈائیلاگ کو اِس سال مارچ اپریل کےمہینوں میں بینکاک میں ہونےوالے مذاکرات کی اگلی کڑی خیال کیا جا رہا ہے۔ اِن مذاکرات میں طے پانےوالے معاملات پر حتمی معائدہ اگلے برس متوقع ہے۔ یہ معائدہ سن دو ہزار نو کے مہینے دسمبر میں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں ہو گا۔

بینکاک مذاکرات کا ایک مثبت پہلُو یہ خیال کیا گیا ہے کہ وہاں شرکاء فِکری اور سیاسی اعتبار سے کسی منزل پر پہچنے کےحوالے سےخاصے سرگرم اور متحرک تھے اور اُن کے اندر مذاکراتی عمل کو اگلے سال کےدوران جاری رکھنے پر اتفاق پایا گیا۔ تمام شرکا یہ چاہتے ہیں کہ موجودہ گھمبیر حالات کو دیکھتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی ضروری ہے اور اِس کے لیئے مسائل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ فعال طریقہٴ کار وضح کرنا بھی ضروری ہے۔

Niederaussem Power Station 4

ماحول کو خراب کرنے والی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میںNiederaussem کا پاور سیٹشن یورپ میں تیسرا بڑا تصور کیا جاتا ہے۔

بون ڈائیلاگ میں ماحولیاتی تبدیلی کےکیوٹو پروٹول میں تسلسل کےحوالے سے بھی مزید پیش رفت کے امکانات کا جائزہ لینا مقصود ہے تا کہ سن دو ہزار بارہ سے آگے کی جانب دیکھتے ہؤے مناسب پلاننگ کی جائے۔ شرکاء کے دائرہ گُفتُگو میں ماحول دوست ٹیکنالوجی اور اُس کا ہر سطح پر متعارف کروایا جانا، کارخانوں کی چمنیوں سے خارج ہونے والے مضر دھوئیں میں کمی، جنگل بُردگی اور ترقی پذیر ملکوں میں آگاہی اور بیداری وغیرہ کا عمل شامل ہیں۔

بون میں اِس دو ہفتے کی میٹنگ میں دو ورکنگ گروپ صرف اِس بات پر توجہ مرکوز کیئےہوئے ہیں کہ کوپن ہیگن جو معائدہ ہو گا اُس کی تفصیلات کو کسی طورطے کیا جائے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کےحوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے دو اور کانفرنسیں اِس سال کے اندر شیڈیول کیا گیا ہے۔ اُن میں سے ایک افریقی ملک گھانا کے دارالحکومت عکرہ میں اگست کی اکیس تاریخ سے شروع ہو گی اوردوسًری پولینڈ کے شہر Poznan میں پہلی دسمبر کو شیڈیول ہے۔