1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کی قرارداد تسلیم نہیں، نیتن یاہو

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ روز ایسی بستیوں کے قیام کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد سلامتی کونسل میں منظور کر لی گئی۔

سلامتی کونسل کے اس مطالبے پر اسرائیل کی جانب سے شدید برہمی ظاہر کی گئی ہے۔ اس تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اوباما انتطامیہ اقوام متحدہ کے اس گروہ سے اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے میں ہی ناکام نہیں ہوئی بلکہ پس پردہ ہونے والی سازش میں بھی شامل ہے۔ اس موقع پر انہوں نے جلد ہی رخصت ہونے والے امریکی صدر باراک اوباما پر براہ راست تنقید بھی کی،’’اسرائیل اقوام متحدہ میں منظور کی جانے والی اسرائیل مخالف اور شرمناک قرارداد کو مسترد کرتا ہے اور اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے‘‘۔

Israel Premierminister Benjamin Netanjahu

اسرائیل اقوام متحدہ میں منظور کی جانے والی اسرائیل مخالف اور شرمناک قرارداد کو مسترد کرتا ہے، نیتن باہو

1979ء کے بعد اسرائیل کی فلسطینی علاقوں میں آبادی کاری کی حوالے سے اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی یہ پہلی قرارداد ہے، جسے امریکا نے ویٹو نہیں کیا ہے۔ تاہم دیگر چودہ ارکان نے متفقہ طور پر اس دستاویز کے حق میں فیصلہ دیا۔ اسے واشنگٹن انتظامیہ کا ایک انتہائی غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ توانائی کے شعبے کے اسرائیلی وزیر یووال اسٹائنٹز کے بقول امریکا نے اپنے ساتھی اور مشرق وسطٰی میں اپنے واحد سچے دوست کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

اس قرارداد میں مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور اسے مشرق وسطٰی تنازعے کے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ بھی قرار دیا گیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا کہ سلامتی کونسل نے ایک مرتبہ پھر برلن حکومت کے اُس موقف کی تائید کی، جس پر وہ برسوں سے قائم ہے۔ ان کے بقول مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری امن عمل کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ 

اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ٹرمپ کانگریس میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹ دوستوں کے ساتھ مل کر اس مضحکہ خیز قرارداد کے منفی اثرات کو ختم کریں۔ منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ اسے جلد ہی درست کر لیا جائے گا، ’’بیس جنوری کے بعد اقوام متحدہ میں معاملات مختلف ہوں گے‘‘۔ اس وقت مغربی کنارے ميں قريب 430,000 اور مشرقی يروشلم ميں اضافی دو لاکھ يہودی آباد ہيں۔ فلسطينی مشرقی يروشلم کو اپنی مستقبل کی رياست کے دارالحکومت کے طور پر ديکھتے ہيں۔