1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کی رپورٹ : بے نظیر قتل تحقیقات شروع

حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے خصوصی مشن کی تحقیقات کے تناظر میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

default

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں حکومت نے بے نظیر قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں جن آٹھ افسران کو او ایس ڈی یعنی افسربکارخاص بنایا ہے ان میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب پولیس سے ہے۔ ان افسران میں صرف وزارت داخلہ کے سابق ترجمان بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ وفاقی حکومت کے ملازم تھے جن کا کنٹریکٹ منسوخ کردیاگیا ہے۔

وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ کے مطابق جن افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی شامل کرلئے گئے ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف اور اس وقت کے انٹیلیجنس ایجنسیوں کے سربراہان کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے بتایا: ''تحقیقاتی ٹیم جب اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی اس وقت جو شخص اس میں ملوث پایا گیا، وہ چاہے ملک کے اندر ہو یا ملک سے باہر اس کے خلاف ضرور کارروائی ہوگی اور اس سلسلے حکومت اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے قانون کے تقاضے پورے کرے گی کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پورے ملک اور پوری دنیا کا نقصان ہے۔''

ادھرسابق صدر پرویزمشرف کے قریبی ساتھی بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی صدر مشرف کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی صفوں میں موجود ان عناصرکا کھوج لگائے جو اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بے نظیربھٹو کی سیکیورٹی کا مناسب بندوبست نہیں کر سکے تھے۔

Pervez Musharraf

سابق صدر پاکستان پرویز مشرف

انہوں نے کہا: ’’بے نظیر بھٹو قتل کیس میں پرویز مشرف کو ذاتی طور پرملوث کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ قابل افسوس ہے ۔ صدر نہ تو حکومت کو کنٹرول کرتا ہے اور نہ ہی پولیس کے متعلقہ ایس ایچ اوز اس کے زیر کنٹرول ہوتے ہیں کہ وہ متعلقہ پولیس حکام کو کہے کہ تم پانی لے کر زمین دھو دو تا کہ ثبوت مٹ جائیں۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم نہیں کرایا گیا ہے اور وہ زرداری صاحب کی ذاتی خواہش اور اصرار پر نہیں کرایا گیا۔ اس لئے یہ تمام چیزیں بھی شکوک و شبہات کوجنم دیتی ہیں۔''

دریں اثناء وزیر داخلہ رحمان ملک نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے نظیر قتل کیس کی تحقیقات کا آغاز ایماندار افسروں کی ایک ٹیم نے شروع کر دیا ہے جبکہ قانونی اورتفتیشی ماہرین سابق وزیراعظم کے قتل کی ایف آئی آر درج کرانے کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ: شکوررحیم،اسلام آباد

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM