1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کی جوہری ہتھیاروں کےعدم پھیلاؤ پر کانفرنس

جوہری ہتھیاروں کےعدم پھیلاؤ کےعالمی معاہدےNPT کےایک سو اناسی رکن ممالک، اس معاہدے کو مزید مؤثر بنانے اور اصلاحات لانے کےلئے پیر سے نیویارک میں اکٹھے ہورہےہیں۔

default

برلن میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مظاہرے کرتے ہوئے ایرانی باشندے

اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس تین سے اٹھائیس مئی تک جاری رہے گی۔ ہر پانچ سال بعد NPT کے رکن ممالک ملاقات کرتے ہیں اور اس معاہدے کو بہتر بنانے پر غور کرتے ہیں۔ اس دوران تخفیف اسلحہ، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور اس کے پر امن استعمال یعنیاِس سے توانائی کے حصول پر بات چیت کی جاتی ہے۔

امریکی مذاکرت کار ایلن تاوشر نےاس مرتبہ کی کانفرنس کے کامیاب ہونے کی قوی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا:’’اس کانفرنس کے اختتام پر کوئی متفقہ دستاویز تیار نہ بھی ہو تو بھی یہ کانفرنس کامیاب ہوگی۔‘‘

ایک تھنک ٹینک ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تاوشر نے کہا کہ ان کے خیال میں اس جائزہ کانفرنس کی کامیابی کو جانچنے کے لئے متفقہ قرارداد کو پیمانہ نہیں بنانا چاہئے کیونکہ کٹر نظریات کے حامل کچھ لوگ اس پر اعتراض کر سکتے ہیں۔

تاوشر نے خبردار کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے اس عالمی معاہدے کو ایران اور شمالی کوریا سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے امریکہ جانے کے لئے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے بھی اپنی ویزا درخواست جمع کروا رکھی ہے۔

Mahmud Ahmadineschad

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد

مغربی ممالک کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام سے جوہری ہتھیاروں کا حصول چاہتا ہے جبکہ تہران حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔ ایران کو مؤقف ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے کام کر رہا ہے۔

ہلیری کلنٹن نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے اس بات پر جھنجھلاہٹ ظاہر کی کہ آخر احمدی نژاد اس کانفرنس میں شرکت کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ کلنٹن نے کہا کہ ایران NPT کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا آیا ہے اور یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر احمدی نژاد اس کانفرنس کے دوران جوہری ہتھیاروں کےعدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ کے اصولوں پر عمل کرنے کا عہد کرتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند بات ہو گی اور ہم ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے۔ تا ہم اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی صدر نے اس کانفرنس کے دوران اپنے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوئی ابہام پیدا کیا تو اُن کی پذیرائی نہیں ہو گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت:امجد علی

DW.COM