1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کی جانب سے کابل حملے کی مذمت

اقوام متحدہ نے کابل میں اپنے گیسٹ ہاؤس پر حملے کے باوجود آئندہ ماہ کے صدارتی انتخابات کے لئے سرگرمیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ بدھ اقوام متحدہ کے زیر استعمال گیسٹ ہاؤس پر طالبان حملے میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے۔

default

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کابل حملے کو قابل مذمت اور ظالمانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیوں سے اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کو روکا نہیں جا سکتا ہے۔ بان کی مون نے کہا کہ اقوام متحدہ نومبر میں صدارتی انتخابات کے آئندہ مرحلے کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک نیوزکانفرنس سے خطاب میں کہا کہ افغان صدر حامد کرزئی نے وہاں تعینات اقوام متحدہ کے عملے کو سخت سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

UN-Gästehaus von taliban gestürmt Flash-Galerie

افغان فوجی گیسٹ ہاؤس کے اطراف میں پوزیشنیں لئے ہوئے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ خود بھی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہی ہے اور کابل کے علاوہ دیگر افغان علاقوں میں بھی اسے مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرے گی۔

اُدھر افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان زامارے بشاری کا کہنا ہے کہ غیرمحفوظ اہداف کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی تیاری جاری ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آور بدھ کو صبح سویرے شارع نو پر موجود گیسٹ ہاؤس میں داخل ہوئے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ اس موقع پر شدید فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق حملے کے وقت گیسٹ ہاؤس میں عملے کے پچیس ارکان موجود تھے۔ کابل میں اقوام متحدہ کے ترجمان علیم صدیقی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اقوام متحدہ کے چھ غیرملکی اہلکار ہلاک ہوئے۔ کابل میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک امریکی شہری بھی شامل ہے۔ اس دوران دو افغان سیکیورٹی اہلکار، تین حملہ آور اور ایک راہ گیر بھی ہلاک ہوا ہے۔

UN-Gästehaus von taliban gestürmt Flash-Galerie

ایک زخمی اہلکار کو گیسٹ ہاؤس سے باہر لایا جا رہا ہے

طالبان نے اس حملے کی ذمے دار قبول کر لی ہے۔ انہوں نے اسے آئندہ ماہ منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو سبوتاژ کرنے کے حوالے سے پہلی کارروائی قرار دیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی بدھ کو اقوام متحدہ کے گیسٹ ہاؤس پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے جبکہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مضبوط تر کردار کے لئے اپنی حمایت کا یقین بھی دلایا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال یونیسیف نے کہا ہے کہ کابل میں ان کا ایک اہلکار لاپتہ ہے، جو حملے کے وقت اقوام متحدہ کے گیسٹ ہاؤس میں موجود تھا۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر این وینیمان نے نیویارک میں ایک بیان میں کہا کہ ان کا ادارہ کابل حملے پر سخت تشویش میں مبتلا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM