1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی سوڈان کی مذمت

اقوام متحدہ کے حکام نے جنوبی سوڈان کے سرحدی علاقے پر فضائی حملے بڑھانے پر خرطوم حکومت کی مذمت کی ہے۔

default

سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن کے ترجمان Kouider Zerrouk نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا:’’بمباری کی مہم پر ہمیں شدید تشویش ہے۔ اس سے شہری آبادی پریشان ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:’’ایس اے ایف (سوڈانی مسلح افواج، شمالی فوج) کی جانب سے کادوقلی اور کاودا کے علاقے میں شدید بمباری جاری ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے مشن کے اس ترجمان نے کہا:’’ہم ایس اے ایف، ایس پی ایل اے اور دیگر مسلح گروپوں سے ایک مرتبہ پھر کہتے ہیں کہ وہ امدادی ایجنسیوں کو علاقے تک فوری رسائی دیں، شہریوں پر عسکری حملے روکیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان کا احترام اور تحفظ کریں۔‘‘

اقوام متحدہ کے سوڈان مشن نے اس علاقے میں لڑائی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ تاہم سوڈان میں انسانی حقوق کے ایک گروپ نے قبل ازیں بتایا تھا کہ گزشتہ نو دِنوں کے دوران فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں پینسٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فوج کے ترجمان سوارمی خالد سعد نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ہمیں جنوبی کوردوفان کے علاقے میں بغاوت کا سامنا ہے اور ہم باغیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘‘

جنوبی علاقے کے سابق باغی گروپ سوڈان پیپلز لبریشن (SPLA) کے خلاف ایس اے ایف کے فوجیوں اور ان کی اتحادی ملیشیا کی لڑائی پانچ جون سے جاری ہے۔

ماضی میں باغیوں کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے پر شہریوں کو ایس اے ایف کے شدید حملوں کا خطرہ ہے۔ وہاں 1983ء سے 2005ء کے درمیان جنوبی اور شمالی علاقے کے درمیان جاری رہنے والی لڑائی کے دوران نوبا کے مقامی باشندے ایس پی ایل اے کے خلاف لڑے تھے۔

دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے آج بدھ سے سوڈان کا تین روزہ دورہ شروع کر رہے ہیں، جس میں وہ دارالحکومت خرطوم کے علاوہ بحران زدہ علاقے دارفور اور جنوبی سوڈان بھی جائیں گے۔

جنوبی سوڈان آئندہ ماہ کی 9 تاریخ کو اپنی آزادی کا اعلان کر دے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM