1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اقوام متحدہ کیا ہے؟

کسی کی نظرمیں یہ ایک ایسا ادارہ ہے کہ جہاں دنیا کے سفارت کارجمع ہو کر مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کوئی اسے ایسی تنظیم سمجھتا ہے کہ جس کا کام صحت اور انسانی حقوق پرتوجہ دینا ہے۔

default

اقوام متحدہ ہے کیا ؟ کسی کی نظرمیں یہ ایک ایسا ادارہ ہے کہ جہاں دنیا کے سفارت کارجمع ہو کرمسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کوئی اسے ایسی تنظیم سمجھتا ہے کہ جس کا کام صحت اور انسانی حقوق پرتوجہ دینا ہے۔ سابق امریکی صدرHarry.S Truman نے اقوام متحدہ کے قیام کے وقت جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تمام دنیا کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کام کرنا ہو گا۔ اجلاس میں موجود تمام اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا آپ سب کو بہتردنیا کی تشکیل کا معمار بننا ہو گا اوردنیا کا مستقبل آپ لوگوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔



بہتردنیا کی تعیر، یہ تھا ہدف 1945 میں کہ جب اقوام متحدہ قائم ہوئی ۔کا۔ اقوام متحدہ میں جرمن سفیر Thomas Matussek کے مطابق کہ UN کی تشکیل سے قبل ا نہی اہداف کے ساتھ لیگ آف نیشنس نامی ایک ادارہ بنایا گیا تھا کہ جو کامیاب سے ہمکنارنہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد فاتح طاقتوں نے اسی طرح کی ایک اورتنظیم بنانے کی ضرورت پر زوردیا۔ جس کی مدد سے امن و سلامتی قائم ہو سکے اوردنیا کو ایک نئی عالمی جنگ سے بچایا جا سکے۔

Ban Ki Moon eröffnet UNCTAD-Konferenz in Ghana

اقوام متحدہ کے موجودہ سیکریٹری جنرل بان کی مون


اقوام متحدہ کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔ مثلا سیاسی بحرانوں کا حل تلاش کرنا، انسانی حقوق، تعیلم و صحت کے مسائل پرتوجہ دینا اورموسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانا۔ اقوام متحدہ کے مرکزی ڈھانچے میں 192 ممالک شامل ہیں۔ تنظیم کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ہررکن ملک ایک ووٹ کا حقدارہے تاہم کسی اہم فیصلے لئے دو تہائی کی اکثریت انتہائی ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے اور پروگرام سات مرتبہ نوبل انعام حاصل کرچکے ہیں۔


Thomas Matussek کے مطابق UN کی تاریخ میں تاریک لمحے بھی آئے ہیں کہ جیسا روانڈا کی نسل کشی یا بوسنیا کا بحران۔ انہوں نے کہا کہ دارفورمیں جاری بحران پرقابو نہ پانے کو اقوام متحدہ کی ناکامی سے تعبیرکیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مینمارمیں گزشتہ دنوں جو ہوا وہ کچھ کم نہیں ایسے مسائل اس وقت جنم لیتے ہیں کو جب سلامتی کونسل کا کوئی رکن ملک اپنا ویٹو کا حق استعمال کرکے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے-Thomas کے ساتھ ساتھ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کے بنیادی ڈھنچے میں اصلاحات وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔