1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اقوام متحدہ کو زکواة دینے کی تجویز، لیکن کیوں؟

اقوام متحدہ انسانی بنیادوں پر امدادی کاموں کی خاطر مالی وسائل کے حصول کے لیے نئے ذرائع کی تلاش میں ہے۔ نئی پیش کردہ تجاویز میں فٹ بال میچوں اور میوزک کانسرٹس پر رضاکارانہ ٹیکس کے علاوہ زکواة جمع کرنا بھی شامل ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کی مطابق یہ تجاویز اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کے لیے رقوم جمع کرنے کی خاطر نئے ذرائع کی تلاش سے متعلق تازہ ترین رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ مسلمان آبادی والے ممالک سے زکواة کے ذریعے رقم جمع کی جائے۔ اس کے علاوہ امدادی کارروائیوں کے دوران اخراجات میں کمی اور زیادہ شفافیت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر نو ماہرین کی جانب سے مرتب کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ اور گزشتہ دہائیوں کے دوران جنگوں اور قدرتی آفات کے باعث بین الاقوامی امدادی کارروائیوں کے لیے مختص کی گئی رقم میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سن 2000ء میں ایسی امدادی کارروائیوں کے لیے دو بلین ڈالر کی رقوم مختص کی گئی تھیں جو کہ 2015ء میں بارہ گنا سے بھی زیادہ اضافے کے ساتھ 24.5 بلین ڈالر ہو چکی تھیں۔

تاہم اقوام متحدہ کو امدادی سرگرمیوں کے لیے رقوم جمع کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس انہی وسائل کی کمی کے باعث اس عالمی ادارے کے کیمپوں میں مقیم سولہ لاکھ شامی مہاجرین کو خوراک فراہم نہیں کی جا سکی تھی۔ ماہرین کے مطابق ان کیمپوں میں خوراک کا نہ ملنا بھی شامی مہاجرین کی بہت بڑی تعداد میں یورپ کی جانب ہجرت کی ایک وجہ تھا۔

یورپی کمیشن کی انسانی وسائل اور بجٹ سے متعلقہ امور کی نائب صدر اور سابقہ کمشنر کرسٹالینا گیورگیوا کے مطابق، ’’اس سے پہلے دنیا نے کبھی اتنی کشادہ دلی نہیں دکھائی جتنی کہ اب، لیکن یہ پھر بھی کافی نہیں ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ انسانوں کی مدد کرنا ’نہ صرف اخلاقی طور پر درست عمل ہے، بلکہ یہ ہمارے اپنے مفاد میں بھی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ دوسری صورت میں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں، جیسے کہ مہاجرین کا موجودہ بحران۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون آج اتوار کے روز اپنے دورے کے دوران دبئی میں یہی رپورٹ اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر سرگرمیوں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی پینل کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

IS-Kämpfer verlassen Palästinenserlager Jarmuk in Damaskus

تجویز کے مطابق سب سے پہلے تنازعات کو حل کیا جانا چاہیے تا کہ امداد کی ضرورت خود بخود کم ہو جائے

اقوام متحدہ کے اسی پینل نے اس ضمن میں خود بھی ایک سہ جہتی حکمت عملی تجویز کی ہے۔ تجویز کے مطابق سب سے پہلے تنازعات کو حل کیا جانا چاہیے تا کہ امداد کی ضرورت خود بخود کم ہو جائے۔ علاوہ ازیں جو رقوم درکار ہوں، ان کے لیے نئے عطیہ دہندگان تلاش کیے جائیں۔ فی الوقت اقوام متحدہ کو انسانی بنیادوں پر امدادی کاموں کے لیے حاصل ہونے والی مجموعی رقوم کا دو تہائی حصہ صرف پانچ ممالک فراہم کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مسلمان شہریوں کی جانب سے سالانہ 232 بلین ڈالر سے لے کر 560 بلین ڈالر تک زکواة ادا کی جاتی ہے۔ اگر ان رقوم کا صرف ایک فیصد بھی عالمی ادارے کی انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کی خاطر مہیا کیا جائے، تو یہ اقوام متحدہ کی اس شعبے میں مالی مشکلات میں واضح کمی کا باعث بنے گا۔