1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کا حلب میں اڑتالیس گھنٹے کی جنگ بندی کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے شام کے محصور شہر حلب میں امدادی اشیاء کی ترسیل کے لیے اڑتالیس گھنٹوں کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ حلب میں کم سے کم دو لاکھ پچاس ہزار شہری فاقہ کشی میں مبتلا ہیں۔

Symbolbild - Aleppo

حلب میں کم سے کم دو لاکھ افراد غذائی اشیاء سے محروم ہیں

شام کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ انسانی ہمدردی کی ٹاسک فورس کے سربراہ جان ایگلنڈ نے کہا ہے کہ امدادی ادارے باغیوں کے زیر تسلط مشرقی اضلاع میں زندگی بچانے والی اشیاء بھیجنے کے لیے تیار تھے لیکن تواتر سے ہونے والی شدت پسندانہ کارروائیوں کی وجہ سے امدادی قافلوں کو شہر میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ایگلنڈ ٹاسک فورس کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ ٹاسک فورس کے مشترکہ اجلاس کی صدارت روس اور امریکا نے کی تھی۔ روس دمشق کا حمایتی ہے جب کہ امریکا چند باغی گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔

ایگلنڈ نے کہا، ’’امدادی قافلے اور کارکنان تیار ہیں۔ ہمارے پاس امدادی اشیاء بھی ہیں۔ ہمیں صرف لڑائی میں وقفہ درکار ہے۔‘‘ ایگلنڈ نے امریکا اور روس دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں پر دباؤ ڈالیں کہ ہر ہفتے مشرقی حلب میں اڑتالیس گھنٹے جنگ بندی کی جائے تاکہ وہاں امدادی سامان اور کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی جا سکیں۔ رواں ماہ کی سات تاریخ کو مشرقی حلب تک رسائی اس وقت مکمل طور پر ناممکن ہو گئی تھی جب صدر بشار الاسد کی فوجوں نے آخری سپلائی روٹ کیسٹیلو کی شاہراہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ شام مشن کے لیے ریڈ کراس کی بین الاقوامی تنظیم کی سر براہ ماریانے گیسر، جو حلب میں ایک ہفتہ قیام کر چکی ہیں، نے کہا ،’’بمباری مستقل ہے۔‘‘

Syrien Angriff von Assads Truppen in Mashad, Aleppo

اقوام متحدہ کا مطالبہ ہے کے غذا کی ترسیل کے لیے شہر میں اڑتالیس گھنٹے کی جنگ بندی کی جائے

ماریانے نے ایک بیان میں کہا:’’کسی بچے اور بالغ فرد کو ایسے حالات میں نہیں رہنا چاہیے۔ وہاں لوگ بد ترین حالات میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ اقوام متحدہ نےشام میں ایسے اٹھارہ علاقوں کی نشاندہی کی ہے جن میں سے زیادہ تر کا محاصرہ سرکاری فورسز نے کر رکھا ہے۔ ایگلنڈ کے مطابق ان علاقوں میں سے صرف تین کو اس ماہ امداد بھیجی جا سکی ہے۔ جنوب مغربی محصور علاقے مضایا میں گزشتہ برس کے آخر میں درجنوں افراد بھوک کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔ اس برس تیس اپریل کے بعد سے وہاں امدادی سامان کی ترسیل نہیں کی جا سکی اور خیال ہے کہ خوراک اور دیگر امدادی اشیاء اب وہاں ختم ہو گئی ہیں۔ شام میں بحران کا آغاز مارچ 2011ء میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں سے ہوا تھا، جو بعد ازاں خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئے تھے۔ اس خانہ جنگی میں اب تک لگ بھگ دو لاکھ اسی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

DW.COM