1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کا بیان ملکی معاملات میں دخل اندازی ہے، ایران

ایران نے احتجاجی مظاہروں پر اقوام متحدہ کے بیان کو ملکی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ سکیرٹری جنرل بعض طاقتوں کے زیر اثر ایسے بیانات دے رہے ہیں اور وہ ایران کے انتخابات کے عمل سے آگاہ نہیں۔

default

پیر کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نےایرانی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ عوام کے خلاف طاقت کا استعمال ترک کر دیں۔

UN Generalsekretaer Ban-Ki Moon in Berlin

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون

بان کی مون نے ایران کی موجودہ صورتحال کو بین الاقوامی برادری کے لئے تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے جا گرفتاریوں اور دھمکیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ بان کی مون نے ایرانی حکومت اور حزب اختلاف سے مطالبہ کیا ہے کہ فریقین مکالمت اور پر امن طریقے سے اختلافات دور کریں۔

ایران میں سن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد، حالیہ متنازعہ صدارتی انتخابات کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ایران کے انقلابی محافظوں کی دھمکی کے باوجود پیر کو دارالحکومت تہران میں عوام کی بڑی تعداد نے مظاہروں میں حصہ لیا۔ پیر کو ہی ایرانی انقلابی محافظوں نے کہا تھا کہ اگر صدارتی انتخابات کے خلاف کوئی نئی مزاحمت کی گئی تو اسے کچل دیا جائے گا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق پیر کی رات تک مظاہرین اپنے گھروں کی چھتوں سے اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے رہے۔

عینی شاہدوں کے مطابق پیر کو حزب اختلاف کے رہنما میر حیسن موسوی کے حمایتی بڑی تعداد میں تہران کے ہفت ِتیر نامی چوک پر اکٹھے رہے لیکن ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی آمد پر تمام مظاہرین منتشر ہوگئے۔

Proteste im Iran

ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد صدارتی انتخابات کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں

انقلابی محافظ ، ایران میں مذہبی حکومت کے نہایت ہی وفاداراور بااثر محافظ سمجھے جاتے ہیں۔ ان محافظوں نے اپنےتازہ بیان میں کہا ہے کہ انتخابات دوبارہ منعقد کروانے کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ انقلابی محافظوں کی ویب سائیٹ پر شائع کئے گئے اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ اس حساس صورتحال میں قانون توڑنے والوں کے خلاف سخت اورموثر کارروائی کی جائے گی۔

دوسری طرف ناکام صدارتی امیدوار میر حسین موسوی کے حامی حالیہ صدارتی انتخابات میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی جیت کو تسلیم کرنے سے یہ کہہ کر انکار کررہے ہیں کہ انتخابی عمل بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کا شکار رہا لیکن ملک کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ائی انتخابی نتائج کو پہلے ہی’’آزادانہ اور شفاف‘‘ قرار دے چکے ہیں۔