1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی درخواست سے جڑے سوالات

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کی جانب سے اقوام متحدہ میں رکنیت کی تاریخی درخواست سے عام فلسطینیوں میں مسرت اور امید کا نیا جذبہ بیدار ہوا ہے مگر زمینی حقائق سے متعلق اب بھی بہت سے سوالات حل طلب ہیں۔

default

اقوام متحدہ میں درخواست جمع کیے جانے کے بعد مغربی کنارے کی فلسطینی آبادی میں جشن کا سماں دیکھنے کو آیا۔ ہزاروں افراد نے اپنے صدر محمود عباس کی حمایت میں بڑی ریلیاں نکالیں۔ ٹیلی وژن اسکرینوں پر جیسے ہی  محمود عباس کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو درخواست دیتے ہوئے دکھایا گیا، حاضرین میں اللہ اکبر اور فلسطین کے دفاع والے مختلف نعرے گونج اٹھے۔

دوسری جانب حماس کی حکومت والی غزہ پٹی میں قدرے خاموشی رہی۔ سخت گیر مؤقف کی حامل حماس اس درخواست کی اس لیے مخالف ہے کہ وہ 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں والی فلسطینی ریاست کا قیام اور اسرائیل کی تباہی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ سخت گیر فلسطینیوں کا اسی قسم کا طرز عمل اسرائیلی شہریوں کو اپنی سلامتی سے متعلق خدشات سے دوچار کرتا ہے۔ یہی نکتہ فلسطینی قیادت، بالخصوص حماس اور محمود عباس کی الفتح میں پائی جانے والی خلیج کو بھی واضح کرتا ہے۔

بیشتر فلسطینی اخبارات نے آج بڑی بڑی سرخیوں میں محمود عباس کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے۔ روزنامہ القدس نے درخواست جمع کروائے جانے کو ’آزادی کی گھڑی‘ کا نام دیا ہے، ال ایام اور ال جدیدیہ جیسے بڑے اخبارات میں بھی عباس کی تقریر کے مختلف پہلووں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے جراتمندی کا نام دیا جا رہا ہے۔

Flash-Galerie Leben in Palästina Palästinenser

مغربی کنارے کے شہر نابلوس میں الفتح سے وابستہ طالبات خوشی کا اظہار کرتے ہوئے

بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے سرگرم دوسری بڑی سیاسی قوت گروپ چہار یعنی کوارٹریٹ ہے۔ امریکہ، روس، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی نمائندگی والے اس گروپ نے اب امن مذاکرات کے لیے نئی تجویز پیش کی ہے۔ کوارٹریٹ نے اسرائیل اور فلسطین پر زور دیا کہ وہ ایک ماہ میں مذاکرات بحال کرکے 2012ء تک اپنے اختلافات ختم کریں۔

اس تجویز میں متنازعہ علاقوں میں یہودی آباد کاری روکنے کی فلسطینی شرط کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی بنیاد پر غالب امکان ہے کہ فلسطینی قیادت کے موجودہ مؤقف میں تبدیلی نہیں ہوگی۔ اسرائیل میں بھی اس تجویز کا کوئی شاندار استقبال نہیں ہوا۔ اسرائیل کے نائب وزیر خارجہ دانی ایالون کا کہنا ہے کہ کوارٹریٹ کی جانب سے پیش کیا گیا نظام الاوقات ’مقدس‘ نہیں۔

اب تمام تر نظریں  پیر کے روز کے لیے شیڈیول سلامتی کونسل کے اجلاس پر مرکوز ہیں، جس میں فلسطینی درخواست پر غور ہوگا۔ فلسطینوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں مستقل رکن روس سمیت دیگر کم از کم چھ ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کی جانب سے اس قرار داد کو ویٹو کرنے اور دیگر ارکان پر بھی یا تو اس کی مخالفت کرنے یا رائے شماری میں حصہ نہ لینے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔

رپورت: شادی خان سیف

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM