1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ میں روس کی شام سے متعلق نئی قرارداد پیش، جرمنی کا عدم اطمینان

اقوام متحدہ میں روس کے مندوب نے شام سے متعلق ایک ترمیم شدہ قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے تاہم جرمنی نے اس قرارداد کے حوالے سے کہا ہے کہ روسی تجاویز ناکافی ہیں۔

اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویتالی چرکن نے کہا کہ یورپی اور امریکی مندوبین کے مطالبات کو قرارداد میں شامل کرنے کے حوالے سے ماسکو کی کچھ حدود ہیں جن سے وہ تجاوز نہیں کر سکتا۔ صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ’’اگر ہم سے یہ امید ہے کہ ہم حزب اختلاف کی طرف سے کی جانے والی خونریزی کا حوالہ بھی نہ دیں تو یہ ہم نہیں کر سکتے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر مغربی ممالک یہ توقع رکھتے ہیں کہ شامی حکومت کو ہتھیار فراہم کرنے پر پابندی لگا دی جائے تو یہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ آج کے دور میں ہتھیاروں پر پابندی کا کیا مطلب ہے۔ جیسا کہ ہم نے لیبیا میں دیکھا کہ آپ حکومت کو تو ہتھیار فراہم نہیں کر سکتے لیکن اپوزیشن کے مختلف گروپوں کو ہر کوئی ہتھیار فراہم کر سکتا ہے۔‘‘

Russlands Botschafter Witali Tschurkin im UN-Sicherheitsrat äußert sich zum Konflikt in Georgien

روسی سفیر ویتالی چرکن نے نئی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بعض حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا

مغربی مندوبین کا کہنا ہے کہ وہ شامی حکومت کو ہتھیار فراہم کرنے پر پابندی دیکھنا چاہتے ہیں اور انہوں نے حزب اختلاف کو حکومت کی سکیورٹی فورسز کے مساوی درجہ دینے کے تصور کو رد کیا ہے۔

جرمن سفیر پیٹر وٹگ نے کہا کہ نئی روسی قرارداد مغربی طاقتوں کے مطالبات پر پورا نہیں اترتی۔ انہوں نے کہا، ’’روسی تجاویز ناکافی ہیں۔ ہم کچھ چیزوں کو چھوڑ کر کچھ کو منتخب نہیں کر سکتے۔ ان میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کے مطالبے بھی شامل ہیں۔‘‘

Syrien Arabische Liga

عرب لیگ کے مبصرین ہفتے کو شام کی اعلٰی قیادت سے ملاقات کریں گے

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ روس کے نئے مسودے میں شام کی جانب سے عرب لیگ کے مبصرین کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا خیر مقدم تو ہے مگر اس میں لیگ کی جانب سے ملک پر پابندیوں کی دھمکی کی تائید نہیں کی گئی۔

ادھر عرب لیگ کے مبصرین آج ہفتے کو شام کی اعلٰی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دمشق میں ایک روز قبل سکیورٹی فورسز کے دفاتر پر ہونے والے خودکش حملوں میں چوالیس افراد کی ہلاکت کا الزام القاعدہ پر لگایا جا رہا ہے۔ شامی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت خود ان حملوں میں ملوث ہے کیونکہ وہ اپوزیشن پر کیے جانے والے کریک ڈاؤن سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عابد حسین

DW.COM