1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ میں جوہری ہتھیاروں پر پابندی کی قرارداد منظور

عالمی طاقتوں کی مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک کمیٹی نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں کسی عالمی معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا جائے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اس کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد پر پابندی لازم نہ سہی، تاہم اس سلسلے میں عالمی برادری کی ایک واضح اکثریت کی رائے سامنے ضرور آ گئی ہے، جو دنیا سے جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ چاہتی ہے۔

اس قرارداد کو منظور ہونے سے روکنے کے لیے عالمی طاقتوں نے زبردست لابنگ کی، تاکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالیں، تاہم جمعے کے روز اس قرارداد پر ہونے والی ووٹنگ میں 123 ممالک نے اس کے حق میں جب کہ صرف 38 ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ پاکستان، چین اور بھارت سمیت 16 ممالک نے اس قرارداد میں اپنی رائے محفوظ رکھی۔

جنرل اسمبلی میں یہ قرارداد آسٹریا، برازیل، آئرلینڈ، میکسیکو، نائجیریا اور جنوبی افریقہ نے پیش کی۔ اس قرارداد کی مخالفت میں امریکا، روس، اسرائیل، فرانس اور برطانیہ نے ووٹ ڈالا۔ اب یہ قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مکمل اجلاس میں رواں برس دسمبر میں پیش کی جائے گی۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگلے برس مارچ سے دنیا بھر سے جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے کسی قانونی پابندی کے حامل معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا جائے۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کو دنیا بھر سے ختم کر دیا جائے۔

جوہری ہتھیاروں کی مخالف تنظیموں نے اس قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔

بین الاقوامی مہم برائے تخفیف جوہری اسلحہ نامی تنظیم کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بیاٹریز فِہن نے کہا، ’’آج کی ووٹنگ یہ واضح کرتی ہے کہ اقوامِ عالم کی غالب اکثریت تخفیف جوہری اسلحہ کو ضروری سمجھتی ہے اور چاہتی ہے کہ ان ہتھیاروں کا خاتمہ جلد از جلد ہو۔ اقوامِ عالم سمجھتی ہیں کہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی ہدف قابلِ حصول ہے اور اس سلسلے میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔‘‘

فِہن نے مزید کہا کہ اس قرارداد سے عالمی جوہری طاقتوں کو یقیناﹰ راضی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کو قلیل وقت میں ختم کر دیں، مگر اس قرارداد سے اس ہتھیار کی برائیاں واضح ہو گئیں ہیں، بالکل یہی کچھ کلسٹر بموں اور زمینی سرنگوں کے حوالے سے بھی ہوا تھا۔