1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ میں ایرانی صدر کی تقریر پر امریکہ برہم

امریکہ نے معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کی جائزہ کانفرنس میں ایرانی صدر کی تقریر پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ احمدی نژاد اس کانفرنس کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، جس میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے نیویارک میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب میں کہا، ’ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی صدر آج یہاں NPT میں بہتری کے کسی ارادے سے نہیں آئے ہیں۔‘

Clinton / New York / USA / UN

ہلیری کلنٹن کانفرنس سے خطاب کر رہی ہے

انہوں نے کہا کہ تہران حکومت جوہری معاملے میں بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کرنے میں ناکام رہی ہے اور احمدی نژاد کی کانفرنس میں شرکت کا مقصد ’’اپنی ناکامی سے دُنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔‘‘ کلنٹن نے الزام عائد کیا کہ ایرانی صدر احتساب سے بچنا چاہتے ہیں اور انہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو مستحکم بنانے کی عالمی کوششوں کی نفی کی ہے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اس کانفرنس سے احمدی نژاد کے خطاب کے موقع پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے مندوبین نے احتجاجی واک آؤٹ کیا۔

ایرانی صدر نے مہینہ بھر جاری رہنے والی کانفرنس کے پہلے روز اپنے خطاب میں دراصل جوہری طاقت کے حامل ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی ٹیکنالوجی کی خواہاں ریاستوں کو دھمکا رہے ہیں۔ احمدی نژاد نے زور دیا کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کا ایک بھی ثبوت دستیاب نہیں۔

ایرانی صدر نے جوہری طاقتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ہتھیاروں کی تلفی میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی وسیع تر پیداوار اور ان میں جدت سے دوسروں کو بھی وجہ ملتی ہے کہ وہ اپنے لئے ہتھیار بنائیں۔

ایرانی رہنما نے کہا کہ جوہری بم دفاعی ہتھیار نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف ایک آگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بم رکھنے پر فخر نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ شرم محسوس کرنی چاہیے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایران اور دیگر ممالک کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو خارج ازامکاں قرار نہ دینے پر واشنگٹن انتظامیہ پر کڑی تنقید کی۔

Mahmud Ahmadinedschad UNO Nuklearkonferenz

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے۔

خیال رہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے ساتھ جرمنی یورینیئم کی افزودگی روکنے سے انکار پر ایران کے خلاف مزید پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔ ان عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ تہران حکومت اپنے ایٹمی پروگرام کی آڑ میں نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری منصوبہ پراُمن مقاصد کے لئے ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM