1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ محض اچھا وقت گزارنے کا ایک کلب ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے عالمی کردار پر انگلی اٹھائی ہے۔ ان کا ناقدانہ تبصرہ سلامتی کونسل کی اُس قرارداد کے تناظر میں ہے، جس میں ویسٹ بینک میں اسرائیلی تعمیراتی پالیسی کی مذمت کی گئی ہے۔

امریکا کے اگلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے میں ’کچھ کر دکھانے‘ کے لیے بے پناہ صلاحیتیں ہیں لیکن سردست یہ ’اچھا وقت‘ گزارنے کا ایک کلب بن کر رہ گیا ہے۔ ٹرمپ نے عالمی ادارے کے خود سے تعین کردہ اِس پہلو پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

گذشتہ ہفتے کے دوران بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ اگلے مہینے کی بیس جنوری کو منصب صدارت سنبھالنے کے بعد اقوام متحدہ میں معاملات کو آگے بڑھانے کی صورت حال کو بدل کر رکھ دیا جائے گا۔ نومنتخب امریکی صدر کے دونوں ٹویٹ سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والے اُس قرارداد کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں فلسطینی علاقے ویسٹ بینک میں اسرائیل کی نئی آباد کاری کے منصوبوں کی مذمت کی گئی ہے۔

سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی قرارداد کے حق میں چَودہ ووٹ اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا تھا جبکہ رائے شماری کے وقت امریکا غیر حاضر رہا۔ اوباما انتظامیہ کے اِس رائے شماری سے غیر حاضر رہنے کے فیصلے پر بھی اگلے صدر نے خفگی کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ نے مشورہ دیا تھا کہ امریکی حکومت اِس قرارداد کو بھی ویٹو کر دے لیکن اوباما حکومت نے اِس مشورے کو نظرانداز کر دیا تھا۔

Symbolbild UN sicherheitsrat berät sich zu Syrien (picture-alliance//EPA/dpa/J. Szenes)

ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو اچھا وقت گزارنے کا ایک کلب قرار دیا ہے

منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس یعنی دسمبر سن 2015 میں امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد اسرائیل اور فلسطی تنازعے میں غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں گے لیکن جوں جوں انتخابی مہم آگے بڑھتی گئی، وہ اسرائیل نواز ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے فلسطینی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں نے فلسطینیوں کی لیڈرشپ کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ اقوام متحدہ کے کردار پر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اقوام اپنی اپنی سوچ اور پالیسیوں کے تناظر میں بھی تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔