1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اقوام متحدہ ليبيا ميں پھنسے تارکين وطن کی مدد کو آن پہنچا

انسانوں کی اسمگلنگ کے گڑھ مانے جانے والے ليبيا کے شہر صبراتہ ميں اسمگلروں کے مختلف گروپوں کے درميان مسلح تصادم ميں پھنس جانے والے سينکڑوں پناہ گزينوں کو اقوام متحدہ کی جانب سے ہنگامی بنيادوں پر مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

صبراتہ ميں پچھلے جمعے کے روز جھڑپوں کے خاتمے کے بعد سے اب تک قريب چار ہزار افراد کو غير سرکاری کيمپوں سے باقاعدہ رہائش گاہوں ميں منتقل کيا جا چکا ہے۔ ان ميں حاملہ عورتيں، نومولود بچے اور بيمار افراد بھی شامل ہيں۔ يہ اطلاع بين الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (IOM) کی جانب سے دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين (UNHCR) کے مطابق مختلف گروپوں کے درميان لڑائی کے سبب صبراتہ ميں پھنس جانے والے مہاجرين کی تعداد لگ بھگ چھ ہزار تھی۔

ليبيا کا ساحلی شہر صبراتہ کافی عرصے سے يورپ کی جانب غير قانونی ہجرت کا مرکز رہا ہے۔ افريقی ممالک کے مہاجرين انسانوں کے اسمگلروں کی مدد سے اسی شہر سے بحيرہ روم کے راستے اٹلی و ديگر يورپی رياستيں پہنچتے رہے ہيں۔ تاہم طرابلس ميں اقوام متحدہ کی حمايت يافتہ حکومت اور وہاں سرگرم ايک مسلح گروہ کے مابين جولائی ميں طے ہونے والے ايک معاہدے کے بعد سے يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت ميں واضح کمی ہوئی ہے۔ اس معاہدے کی شرائط ميں گروہ کو پابند کيا گيا تھا کہ وہ غير قانونی ہجرت کو روکے۔ اسی کے نتيجے ميں وہاں سرگرم متعدد گروہوں کے مابين تصادم شروع ہو گيا۔ اس پورے معاملے کے بيچ پھنس جانے والے مہاجرين صبراتہ ميں غير سرکاری کيمپوں ميں پھنس کر رہ گئے تھے۔

اقوام متحدہ کی مداخلت کے نتيجے ميں صبراتہ ميں محصور تارکين وطن کو وہاں سے زوارہ منتقل کر ديا گيا ہے۔ يہ شہر صبراتہ سے پچيس کلوميٹر کے فاصلے پر ہے اور مہاجرين نے يہ سفر پيدل چل کر طے کيا۔ زوارہ کی ايمرجنسی کميٹی کے سربراہ صديق الجياش کے بقول مہاجرين مختلف گروپوں ميں اس شہر تک پہنچے۔ انہوں نے بتايا کہ وہاں موجود مہاجرين کو خوراک کی شديد قلت کا سامنا ہے۔

بين الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی ليبيیا میں قائم شاخ کے سربراہ کے بقول وہ اس مسلح تنازعے کے نتيجے ميں متاثر ہونے والے پناہ گزينوں کے ليے فکر مند ہيں۔

DW.COM