1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ: فلسطینی رکنیت کی درخواست کو مسائل کا سامنا

برطانیہ، فرانس اور کولمبیا نے اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی درخواست پر ہونے والی رائے شماری میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے فلسطینیوں کے لیے مطلوبہ نو ووٹ حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔

default

سلامتی کونسل کے ایک سفارت کار نے اس بات کی تصدیق کی کہ تینوں ملک ووٹ ڈالنے کے عمل میں شامل نہیں ہوں گے۔ فلسطینیوں کی جانب سے اپنی ریاست کی رکنیت حاصل کرنے کی کوششوں کو تازہ دھچکا ایسے وقت میں لگا ہے جب پیر کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت یعنی یونیسکو نے فلسطین کی رکنیت قبول کر لی تھی۔

توقع ہے کہ فرانسیسی وزارت خارجہ جمعے کو اپنے فیصلے کا جواز پیش کرے گی۔ ادھر ایک برطانوی اہلکار نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ ولیم ہیگ آئندہ بدھ کو لندن میں برطانوی پارلیمان کے سامنے برطانیہ کے ووٹ نہ ڈالنے کے فیصلے کی وضاحت کریں گے۔

برطانیہ اور فرانس کے مندوبین نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کی فلسطینی رکنیت کی درخواست پر غور کرنے والے اجلاس سے قبل اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے ریاض منصور سے ملاقات کی تھی۔ درخواست کے بارے میں کمیٹی کی رپورٹ آئندہ بدھ کو سلامتی کونسل کے تمام پندرہ اراکین میں تقسیم کی جائے گی۔ سلامتی کونسل میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے رکنیت کی کسی بھی درخواست کے لیے کم از کم نو ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں۔

Palästina Aufnahme UNESCO Riad al-Maliki Elias Sanbar

فلسطینی انتظامیہ کے وزیر خارجہ ریاض المالکی (بائیں) نے کہا ہے کہ فلسطینی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے

امریکہ اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ کسی فلسطینی ریاست پر اتفاق کے لیے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات ہونے چاہئیں۔

سلامتی کونسل کے چھ رکن ممالک برازیل، چین، بھارت، لبنان، روس اور جنوبی افریقہ نے فلسطینی درخواست کی کھلے عام حمایت کی ہے۔ جرمنی نے ابھی اپنے مؤقف کا اظہار نہیں کیا مگر سفارت کاروں کے بقول توقع ہے کہ اس کا ووٹ انکار میں ہو گا۔  پرتگال کے بارے میں بھی یہی امید ہے جبکہ بوسنیا کے تین نسلی رہنما ووٹ ڈالنے کے فیصلے پر تقسیم ہیں۔

Mahmoud Abbas Europaparlament 6.10.2011

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے 23 ستمبر کو اقوام متحدہ میں ایک الگ فلسطینی ریاست تسلیم کرانے کی درخواست پیش کی تھی

تاہم ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ نائیجیریا اور گیبون کا جھکاؤ بظاہر فلسطینیوں کی طرف ہے۔ فلسطینی سفیر نے سلامتی کونسل پر یونیسکو کے فیصلے کے بعد اسرائیل کے انتقامی اقدامات کی مذمت کرنے کے لیے زور دیا تھا۔ اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں دو ہزار نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری دینے کے علاوہ ملک میں سے گزرنے والے فلسطینی سامان کے محصولات کی ادائیگی بھی روک دی ہے۔

یونیسکو کے فیصلے کے بعد امریکہ نے بھی اس ادارے کی فنڈنگ روک دی تھی۔ محمود عباس کی عالمی ادارے میں درخواست کے ردعمل میں امریکہ نے فلسطین کی 200 ملین ڈالر کی اقتصادی امداد بھی بند کر رکھی ہے۔

ادھر فلسطینی انتظامیہ کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ فلسطینی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے اور وہ عالمی ادارے میں اپنا درجہ بڑھ کر مبصر رکن کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے۔ راملہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مبصر درجہ ہی حاصل کرنا تھا تو یہ کام کافی پہلے ہو سکتا تھا۔

رپورٹ: حماد کیانی / خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM