1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل: امریکہ رکن بن گیا

منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کی کونسل کے لئے وؤٹنگ ہوئی اورامریکہ کو پہلی مرتبہ اس ادارے میں نشست ملی۔ نئی کونسل آئندہ تین سال کے لئے چنی گئی ہے۔

default

امریکہ اس کونسل میں اپنی نشست کے لئے پہلی بار چناؤ میں شامل ہوا

ماضی میں امریکہ اس کونسل کی مخالفت کرتا رہا ہے تاہم اب اس میں شامل ہونے کی اس کی خواہش پوری ہوگئی ہے۔

اس خواہش کے پس منظر اور ممکنہ اثرات کے بارے میں ڈوئچے ویلے کے نامہ نگار Mast Kirchning نے جرمنی کے انسانی حقوق کے ادارے سے منسلک عالمی سلامتی کی سیاست کے ماہر Wolfgang Heinz کے ساتھ بات چیت کی:

Ausstellungstipps KW 13 Miquel Barcelo Kunst in den Hallen der UN in Genf

امریکہ اس کونسل میں اپنی نشست کے لئے پہلی بار چناؤ میں شامل ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی یہ کونسل ایک ایسی کثیر الفریقی کمیٹی ہوتی ہے جس کے کاموں کا دارومدار مختلف حکومتوں کی سیاسی خواہشات پر ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کی کونسل میں 47 ممالک کے نمائندے شامل ہیں جو جنیوا میں ہونے والی میٹینگز میں اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کی کونسل ابتک اقوام متحدہ کے ایک زیلی ادارے کی حیثیت رکھتی تھی۔ 2005ء میں اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اس کونسل کو اقوام متحدہ کے ایک مرکزی ادارے کی حیثیت دینے کی تجویز پیش کی تھی جب کہ 2006ء میں امریکہ نے اس کی زبردست مخالفت کی۔

عالمی سلامتی کی سیاست کے جرمن ماہر Wolfgang Heinz کی رائے میں اس کی وجہ اس وقت برسراقتدار امریکی حکومت کی قدامت پسند سیاسی پالیسی تھی۔

’’دائیں بازو کی طرف جھکاؤ والی حکومت ہمیشہ بین الاقوامی قرارداد یا قوانین کو امریکہ کی طاقت کے استعمال کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھتی ہے۔ اس لئے امریکہ میں بین الاقوامی قوانین کے معاہدوں کے بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں‘‘

جرمن ماہر ہائنز کے مطابق اس وقت امریکہ کی طرف سے انسانی حقوق کی کونسل میں نمائندگی کی جو نئی خواہش سامنے آئی ہے اس کے پیچھے آزاد خیال یا اعتدال پسند سیاسی سوچ کار فرما ہے۔

’’باراک اوباما کی حکومت میں بالکل مختلف نظریات رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ انکی انتظامیہ میں ایسے ماہرین اور سیاستدان شامل ہیں جو اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں نا کہ اسکے بغیر یا اسکے خلاف تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ افراد اپنی حکومت کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ لیکن ان کے لئے مفادات کے تحفظ کا یہ مطلب نہیں کہ بدعنوانی اور سیاستدانوں کے غلط طرزعمل کو تنقید کا نشانہ نا بنایا جائے‘‘

ہائنز کے مطابق امریکہ کے اور بھی مقاصد ہیں۔ مثلاً ٍ انسانی حقوق کی کونسل کے نذدیک اسرائیل کی طرف سے ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے موضوع کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی اس کونسل نے اسرائیل کو ان خلاف ورزیوں کے لئے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ فلسطینی انتظامیہ کے رویے پر کونسل نے کبھی بحث نہیں کی۔

امریکہ کے پاس سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق 20 سال سے موجود ہے۔ وہ اس کا استعمال خاص طور سے اس وقت کرتا ہے جب اس کے خیال میں کوئی ایسی قرارداد پیش ہوتی ہے، جسے خود امریکہ اسرائیل کے ساتھ غیر منصفانہ یا یکطرفہ سمجھتا ہے۔