1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اقتصادی کساد بازاری کے خلاف یورپی یونین کے رکن ملکوں کے اقدامات

امریکہ میں ہاؤسنگ کے شعبے اور بینکاری کی صنعت سے شروع ہونے والا مالیاتی بحران پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا یہ بات گذشتہ برس موسم خزاں تک بالکل واضح ہو چکی تھی۔

default

یورپین سنٹرل بینک کے باہر یورو کرنسی کا نشان

پھر دسمبر میں یورپی یونین کی ایک سربراہی کانفرنس میں یونین میں کساد بازاری کے اثرات میں کمی کے لئے تقریبا 200 بلین یورو مالیت کا ایک معیشی استحکامی پروگرام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس معیشی پروگرام کے لئے 30 بلین یورو برسلز میں یورپی کمشن کے ایک مرکزی فنڈ میں سے مہیا کئے جائیں گے اور باقی ماندہ 170 بلین یورو یونین میں شامل 27 ریاستیں خود فراہم کریں گی۔ یورپی سربراہی کانفرنس کے فیصلے کے تحت یہ اختیارمتعلقہ حکومتوں کودیا گیا ہے کہ وہ کساد بازاری پر جلد قابو پانے کے لئے کس طرح کے پروگرام ترتیب دیتی ہیں اور ان پر کتنی رقوم خرچ کرتی ہیں۔

یورپی ملکوں نے اپنے اپنے طور پر جو معیشی استحکامی پروگرام منظور کئے ہیں ان کے لئے مالی وسائل زیادہ تر نئے ریاستی قرضوں کی صورت میں مہیا کئے جائیں گے۔ یورپی یونین کے کرنسی سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر یوآخن آلمونیا کے مطابق یہ درست ہے کہ معیشی بہتری اور عوامی شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں کے لئے تقریبا سبھی ملکوں کو نئے قرضے لینا پڑیں گے لیکن اس عمل کے دوران مستقبل میں بجٹ میں خسارے کو دوبارہ کم کرنے کی کوششوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیئے۔

Wechselstube mit Dollar und Euro Geldscheine

اس وقت دنیا بھر کی تمام بڑی معیشتوں کو کساد بازاری کا سامنا ہے

یوآخن آلمونیا کہتے ہیں: "وسط مدتی اورطویل المدتی بنیادوں پر بجٹ میں استحکام وہ فیصلہ کن عمل ہوگا جو یہ تعین کرے گا کہ کھویا ہوا اعتماد بحال ہو اور سرمایہ کاروں اور عام صارفین کو مالی وسائل کے استعمال کے لئے تحریک دی جاسکے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے معیشی سطح پرطلب میں اضافے کی صورت حال کو وسط مدتی بنیادوں پر یقینی بنایا جاسکتا ہے۔"

سالانہ بجٹ میں استحکام کے حوالےسے یورپی کمشنر آلمونیا کا یہ مئوقف اس لئے بھی قائل کردینے والا ہے کہ معیشی بحران کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے یورپی یونین کے رکن ملکوں کو مجموعی طور پر گذشتہ برس جو نئے قرضے لینا پڑے وہ اس بلاک کی مجموعی اقتصادی پیداوار کا دو فیصد بنتے تھے۔ اس سال یہ شرح 4.4 فیصد اور 2010 میں مزید اضافے کے ساتھ 4.8 فیصد رہنے کا امکان ہے حالانکہ یورپی یونین کے مالیاتی استحکامی معاہدے میں بجٹ میں اس خسارے کی زیادہ سے زیادہ شرح تین فیصد رکھی گئی ہے۔

Treffen der G-8 Finanzminister

عالمی اقتصادی بحران گزشتہ کئی ماہ سے ہر فورم کا موضوع گفتگو ہے

یورپی یونین کے رکن سبھی ملک اپنے ہاں معیشی بہتری کے اقدامات کررہے ہیں۔ وفاقی جرمن حکومت نے ابھی حال ہی میں قریب 50 بلین یورو مالیت کے جس دوسرے معیشی استحکامی پروگرام کی منظوری دی اس کے باعث جرمنی کساد بازاری کے خلاف ریاستی اقدامات کے سلسلے میں باقی یورپی ملکوں سے کہیں آگے ہے۔ اس سے قبل برلن حکومت نے دسمبر میں جس پہلے معیشی پروگرام کا اعلان کیا تھا اس کی مالیت 31 بلین یورو بنتی ہے۔ یوں جرمنی میں ان دونوں حکومتی پروگراموں کی مجموعی مالیت 81 بلین یورو بنتی ہے۔

برسلز کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت کے یہ اقدامات بالکل درست ہیں کیونکہ یورپی یونین کے لئے جرمنی کی حیثیت اقتصادی انجن کی سی ہے۔ یورپی یونین کے یورو زون میں شامل ملکوں کے گروپ کے سربراہ اور لکسمبرگ کے وزیر اعظم ژاں کلود یُنکرکہتے ہیں: "جرمنی نے جس نوعیت اور حجم کے معیشی استحکامی پروگراموں کی منظوری دی ہے ہم انہی کی امید لگائے بیٹھے تھے اور یہ اقدامات یورپی وزارتی کونسل کے فیصلوں کے بھی عین مطابق ہیں۔"

Kanzlerin Angela Merkel Davos Weltwirtschaftsforum

عالمی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے موقع پر جرمن چانسلر اینگلا میرکل خطاب کر رہی ہیں

فرانس جس کی حکومت نے شروع میں ہنگامی مالیاتی اقدامات کے حوالے سے جرمنی کی احتیاط پسندی پر تنقید بھی کی تھی اب تک 26 بلین یورو مالیت کے پروگرام کا اعلان کرچکا ہے۔ یہ رقوم زیادہ تر کارسازی کی صنعت اور تعمیراتی شعبے کی مدد کے لئے استعمال کی جائیں گی اور ان کے ذریعے روزگار کے ایک لاکھ مواقع بچائے جاسکیں گے۔ فرانس بھی ان دنوں ایک نیا اقتصادی پروگرام تیار کرنے میں مصروف ہے اور صدر نکولا سارکوزی تسلیم کرتے ہیں کہ معیشی نوعیت کے اضافی ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے برلن نے پیرس کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا۔

برطانیہ نے اپنی بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے قریب 24 بلین یورو خرچ کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس کے علاوہ سال رواں کے آخر تک کے لئے اضافی سیلز ٹیکس یا VAT کی شرح بھی کم کردی گئی ہے تاکہ عام شہریوں کو زیادہ خریداری کی ترغیب دی جاسکے۔

اٹلی میں وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی کی حکومت ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے 80 بلین یورو خرچ کرنے کا پروگرام بنا چکی ہے۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات میں پہلے سے طے شدہ اقتصادی پروگرام بھی شامل ہیں اور اطالوی حکومت نے معیشی گرم بازاری کے لئے جو نئی رقوم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان کی مالیت صرف چھ بلین یورو بنتی ہے۔

Finanzgipfel Washington Gruppenbild

امریکی میں ہونے والی جی 20 کانفرنس کے شرکاء

اسپین میں حکومت نے اپنے پہلے معیشی پروگرام کا فیصلہ گذشتہ برس گرمیوں میں ہی کرلیا تھا جس کی مالیت 38 بلین یورو بنتی ہے۔ پھر 2008 کے آخر میں مزید 11 بلین یورو کے ایک نئے معیشی پروگرام کی منظوری بھی دی گئی۔ اسپین کو یونین کے رکن باقی بڑے ملکوں کے مقابلے میں یہ اقدامات اس لئے جلد کرنا پڑے کہ ہسپانوی معیشت کو بین الاقوامی مالیاتی بحران نے 2008 کے شروع سے ہی متاثر کرنا شروع کردیا تھا۔

بین الاقوامی مالیاتی بحران کے نتیجے میں گذشتہ کئی عشروں کے دوران نظر آنے والی سب سے شدید کساد بازاری کے باعث جرمنی کو بھی مجموعی قومی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے حالانکہ جرمنی یورپی یونین کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہونے کے علاوہ سب سے بڑی معیشت بھی ہے۔ جرمنی کو اس وقت جس طرح کی کساد بازاری کا سامنا ہے وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے لے کر آج تک کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

جرمن وزیر خزانہ Peer Steinbrück کہتے ہیں کہ کساد بازاری جتنی شدید ہے، معیشی استحکامی پروگرام بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیئے اور یہ کام نئے لیکن ریکارڈ حد تک زیادہ ریاستی قرضوں کے بغیر ممکن نہیں۔ "اگر ہم جرمن معیشت کی کارکردگی میں فوری تحریک لانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ رقوم اس طرح استعمال کرنا ہوں گی کہ وسط مدتی سطح پر ان وسائل کی مدد سے جرمنی کو جدید تر بنایا جائے اور خاص کر بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائی جائے۔"

UN Vollversammlung in New York 23.09.2008 Nicolas Sarkozy

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی عالمی اقتصادی بحران ہر رہنما کا موضوع گفتگو رہا

چانسلر میرکل کی سربراہی میں جرمنی کی مخلوط ‌حکومت نے اقتصادی کساد بازاری کا مقابلہ کرنے کے لئے جو وسیع تر پروگرام منظور کئے ان کی وجہ سے سال رواں کے دوران وفاقی بجٹ میں خسارے کی مالیت 45 بلین یورو کی ریکارڈ حد تک پہنچ سکتی ہے۔

اس حوالے سے نئے ریاستی قرضوں کی جلد ازجلد واپسی کے بارے میں وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کہتی ہیں: " یہ فیصلہ چانسلر کے طور پر میرے سیاسی کیریئر کا سب سے مشکل سیاسی فیصلہ تھا۔ اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں اور ان کی خوشحالی کا انحصار ٹھوس نوعیت کی مالیاتی سیاست اور متوازن سالانہ بجٹ پر ہوگا۔"

اپنی حکومت کے مالیاتی اور معیشی اقدامات کو مناسب قرار دیتے ہوئے چانسلر میرکل کہتی ہیں کہ 2009 کے دوران جرمنی کی معیشی کارکردگی میں دو اور ڈھائی فیصد کے درمیان کمی دیکھنے میں آئے گی اور ملکی برآمدات بھی ایک سال پہلے کے مقابلے میں نو فیصد کم رہیں گی۔ "ہماری طرف سے بین الاقوامی معیشی بحران کا جواب وہ اقتصادی اقدامات ہیں جو ہم نے کئے ہیں۔ یہ بحران غیر معمولی معیشی صورت حال کا نتیجہ ہے جو اسی طرح کے غیر معمولی استحکامی پروگرام کا تقاضا کرتی ہے۔"